خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۹ 300 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء ب ہے وہ چین بھی ان کا عارضی ہے اور چین پر بھی ہمیشہ فنا آجاتی ہے، اگر فنانہیں ہے تو ایک معنی میں بے قراریوں کو فنا نہیں ہے حسرتوں کو فنا نہیں ہے کیونکہ وہ موت کی مثال ہیں۔پس اس پہلو سے اگر ہم زندگیوں کو دیکھیں تو ہم میں سے اکثر ہمہ وقت بے چین رہتے ہیں۔کچھ نہ کچھ پانے کے باوجود بے چین رہتے ہیں کیونکہ ان کی تمنائیں ان کے حصول کی خواہشیں ان کی دستریں سے آگے آگے بھاگ رہی ہوتی ہیں۔جو کچھ بھی حسرتیں انسان اپنے دل کی نکال سکتا ہے نکال چکتا ہے ، تو اس سے زیادہ اور حسرتیں دل میں آ کے جگہ بنا لیتی ہیں۔اسی مضمون کو غالب نے یوں بیان کیا تھا، گناہ کی نسبت سے کہ: ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب ،اگران کردہ گناہوں کی سزا ہے (دیوان غالب صفحہ ۳۳۴) : کہ اے خدا! گناہوں کی بھی تو کبھی حسرت ہماری پوری نہیں ہو سکتی۔جتنے گناہ کرتے چلے گئے ، گناہ کی طلب اور بڑھتی چلی گئ اور کبھی زندگی میں گنہگار کو جس نے سب طرح سے کھلی ڈور چھوڑ دی ہو۔جس نے اپنے آپ کو ہر طرح کھلی چھٹی دے رکھی ہو اس کو بھی گناہ اس حد تک کرنے کی تسکین نصیب نہیں ہوئی کہ اس کا پیٹ بھر گیا ہو اسی مضمون کو غالب ایک اور شعر میں یوں بیان کرتا ہے۔دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا (دیوان غالب صفحہ ۸۳۰) کہ میرے گناہوں کا جو سیلاب ہے وہ اپنا جوش مارتے ہوئے تیز رفتاری کی وجہ سے خشک ہو گیا اور ابھی تو میرا دامن بھی نہ بھیگا تھا۔پس کسی پہلو سے آپ دیکھ لیں انسان کو مستقل چین نصیب نہیں ہوسکتا اور وہ کسی نہ کسی پہلو سے چین کی تلاش میں رہتا ہے اور وہ ایک راہ جو چین کے نصیب کی خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اس سے وہ غافل رہتا ہے۔قرآن کریم نے جہاں یہ فرمایا کہ : وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ ایک باقی رہنے والی حقیقت ہے تو ساتھ یہ بھی بتادیا کہ رضائے باری تعالیٰ کو دوام حاصل ہے اور در حقیقت تسکین قلب دوام سے نصیب ہو سکتی ہے۔اسی بات کو ایک اور آیت میں کھولتے ہوئے بیان فرمایا :