خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد ۹ 296 خطبه جمعه ارجون ۱۹۹۰ء جب تحقیق نے قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ ایٹم کو بھی فنا ہے اور اسی فنا کے نتیجے میں جو سائنس دانوں کو معلوم ہوئی پھر ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بموں کی ایجاد ہوئی۔ پھر ایک وقت ایسا تھا اور ابھی تک یہ دور چل رہا ہے ، جبکہ یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ Proton کو فنا ہے یا نہیں ہے؟ لیکن دن بدن سائنسدانوں کا زیادہ گروہ اس بات کا قائل ہوتا چلا جا رہا ہے کہ Proton کو بھی بالآخر فنا ہے اور اب تک حساب دانوں نے جو حساب لگائے ہیں اور جن میں ہمارے مشہور Nobel Laureate ڈاکٹر عبدالسلام صاحب بھی ہیں ان کے فارمولے کے مطابق غالبا Proton کی عمر 1033 سال ہے اور اس کے بعد Proton کو بھی فنا ہو گی۔ چنانچہ اربوں ڈالرز کے خرچ سے امریکہ میں ،اٹلی میں ، بعض دوسرے مقامات پر یہ تجارب کئے جارہے ہیں جن سے قطعی طور پر معلوم ہو سکے کہ Proton بالآخر فنا ہوگا یا نہیں ہوگا اور اگر ہوگا تو کتنی مدت میں؟ اور قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر یہ قاعدہ کلیہ بیان فرمایا تھا کہ : كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ ہر چیز کو فنا ہے ، خواہ اس کا نام رکھو ، یا Electron رکھو، یا مو آن رکھو، سب پارٹیکل قرار دو، یا کچھ اور کہہ ترکی lectron رکھو یا ایٹم رکھو، یا Proton وو دو، ہر پہلو سے بلا استثناء کا ئنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو فنا سے بالا ہو۔ پس اس لحاظ سے یہ ایک ایسی ظاہر حقیقت ہے، ایسی قطعی ، ایسی یقینی کہ ہر وقت نظر کے سامنے رہتی ہے اور نظر کے سامنے رہنی چاہئے۔ لیکن ایک اور پہلو سے دیکھیں تو سب سے زیادہ موہوم حقیقت فنا کو ہے ۔ یعنی انسان اپنے شعور کی دنیا میں موت سے ڈرنے کے باوجوداسے اپنے سے بہت دور دیکھتا ہے اور گردو پیش کو دیکھتا ہے لیکن اپنی ذات پر موت کی حقیقت کا اطلاق نہیں کرتا اور موت کی حقیقت کا اپنی ذات پر اطلاق کرنے کے نتیجے میں جو لازمی نتائج اس کی زندگی پر پڑنے چاہئیں ، ان سے وہ محروم رہ جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں جہاں یہ فرمایا گیا کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ ہر چیز کو فنا ہے ، اس کے معاً بعد ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرما دیا گیا: وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ ایک چیز ایسی ہے جسے کوئی فنا نہیں وہ تیرے رب کا چہرہ ہے ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ وه صاحب جلال ہے اور صاحب اکرام ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں نہ فرمایا کہ رب کو فنا نہیں ہے باقی ہر چیز کو فنا ہے۔ یہ