خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد ۹ 292 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء طرح سے پاسداری کی اور جس حد تک ممکن تھا۔تم نے فاسقوں اور ظالموں کو سزائیں دے کر خدا کی یعنی اپنی دانست میں خدا کی رضا حاصل کی ہے اور یہ کیسی خدا کی رضا ہے، اتنے بڑے مجاہدین ، اتنے عظیم الشان خدمت دین کرنے والے اس طرح خدا کی نظر سے گرائے گئے ہوں کبھی دنیا کی تاریخ میں کوئی اور بھی ایسا منظر دیکھا ہے۔کوئی ایک بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رضا کے اظہار کا نمونہ پاکستان میں آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ظلم ، سفا کی ، بدی ہر چیز میں قوم اتنا بڑھ چکی ہے کہ اب کھلم کھلا اخباروں میں اشتہار شائع ہو رہے ہیں۔بعض ایسوسی ایشنر بن گئی ہیں جو اشتہارات کے ذریعے بدیاں گنواتے ہیں کہ یہ یہ بدیاں اس قوم میں ہیں۔کوئی اچھائی ہے تو بتاؤ ہمیں ہم اس سچائی کی تلاش میں ہیں۔کہیں کوئی اچھائی قوم میں ایسی باتی دکھائی نہیں دیتی کہ جو خود بخود دکھائی دینے لگے اس لئے لوگ اشتہار دے رہے ہیں کہ اگر کسی کی نظر میں کوئی خوبی ہو جو ہماری نظر میں نہ آئی ہو تو مہربانی فرما کر فلاں فون نمبر پر یا فلاں پتے پر خط لکھ کر ہمیں بتائیں کہ ایک خوبی ابھی باقی رہ گئی ہے اور بدیاں کھلم کھلا اور نمایاں طور پر جلی قلم کے ساتھ لکھوا کر وہ شائع کروارہے ہیں اور کوئی جواب دینے والا باقی نہیں ہے۔کوئی کہنے والا نہیں ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ہم ان بدیوں میں مبتلا نہیں ہیں۔پس یہ وہ تاریخ ہے جو گزشتہ پندرہ میں سال کے اندر ہم نے Unfold ہوتی ہوئی ، اس طرح کھلتی ہوئی دیکھی ہے جس طرح پتی کھل رہی ہو تو آہستہ آہستہ کھل کر وہ پورے صفحے کی طرح سامنے آجاتی ہے۔اس طرح قوم کے اعمال نامے کا صفحہ اب کھل چکا ہے اور ہر کوئی دیکھ رہا ہے۔صرف یہ ان کو ہوش نہیں کہ یہ کیوں ہمارے ساتھ ہورہا ہے کہ دوٹوک واضح سوالات کرنے کی ضرورت ہے اور بار بار یہ سوالات کرنے کی ضرورت ہے کہ بتاؤ تم نے کیا کیا ہے اس عرصے میں ؟ اسلام کی سب سے بڑی خدمت تم نے کیا سرانجام دی تھی۔اس خدمت کی یہ جزاء ہے جو خدا دیا کرتا ہے؟ پہلوں کو کیوں نہیں خدا نے ایسی خدمتوں کی جزاء دی۔پس صاف پتا چلتا ہے کہ اس قوم کا جرم صرف یہی ہے کہ اس نے بحیثیت قوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی اور پھر ظلم اور افتراء میں بڑھتی چلی گئی۔ہر طرح کے گند حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اچھالے گئے آپ کی تصویروں کو بھیانک صورتوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔آپ کے اوپر ہر قسم کے بہتان باندھے گئے ، ہرقسم کی گالیاں دیں اور قوم