خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد ۹ 291 خطبه جمعه ۲۵ مئی ۱۹۹۰ء رہنی چاہئے۔خالی دعائیں کرنا اور دوا چھوڑ دینا یہ بھی مومنوں کا دستور نہیں ہے۔دعائیں بھی جاری رکھیں۔دوائیں بھی کرتے رہیں اور اس وقت سب سے زیادہ ضرورت پاکستان کو ، پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کو اور پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانیوں کو یہ کھول کھول کر بتانے کی ضرورت ہے کہ تم اپنی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالو۔تم نے کیا کیا کام کئے ہیں جن کے نتیجے میں خدا تم سے یہ سلوک کر رہا ہے۔تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ گزشتہ گیارہ سال میں ملک میں اسلام نافذ ہوا ہے۔تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ تم نے شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں وہ کچھ کیا جو ضیاء کے دور سے پہلے کوئی دنیا میں کر نہیں سکا۔تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ جماعت احمدیہ کوکا فراور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر اور تمام مراعات سے محروم کر کے تم نے اسلام کی عظیم الشان خدمت کی ہے۔تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ تم نے نوے سالہ مسائل حل کئے اور ایسا ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا جس کی نظیر دوسری اسلامی تاریخ میں دکھائی نہیں دیتی اگر یہ سارے دعوے بچے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو تم پر بہت زیادہ مہربان ہو جانا چاہئے تھا۔اللہ تعالیٰ تو اس آیت میں فرماتا ہے کہ میں کافروں سے بھی صرف نظر فرماتا ہوں۔ان کی بداعمالیوں کی سزا دینے میں بھی جلدی نہیں کرتا۔تمہارے معاملے میں خدا تعالیٰ کو کیا ہو گیا ہے کہ تمہاری نیکیوں کی جزاء تو نہیں دے رہا اور تمہاری بداعمالیوں کی سزا دینے میں اتنی جلدی جلدی آگے بڑھ رہا ہے کہ روز به روز تمہاری حالت بگڑتی چلی جارہی ہے۔مختلف قسم کے مریض ہوا کرتے ہیں۔بعضوں کی حالت سالوں میں بگڑتی ہے، بعضوں کی دنوں میں بعضوں کی گھنٹوں میں بگڑتی ہے۔تم تو اس حال کو پہنچ گئے ہو کہ ہر دم تمہاری حالت غیر ہوتی چلی جارہی ہے۔دنیا کی ہر برائی تمہارے قومی وجود کا حصہ بن چکی ہے اور ہر قسم کی بدیوں نے تمہیں گھیر رکھا ہے۔اَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ (البقرہ:۸۲) والا منظر ہمارے سامنے ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض ظالم اور گناہ گار ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی خطیئہ ان کو گھیرے میں لے لیتی ہے۔نکلنے کا رستہ نہیں رہتا۔وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ (ص:۴) کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ حال ہے اس وقت اور پاکستان میں عام مسلمان شہریوں کا سوال یہ ہے اور یہ بتانے کی ضرورت ہے یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کہ تم نے گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں کیا کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔احمدیوں کو دائرہ اسلام سے باہر نکال کر تم نے ایک تاریخی خدمت دین کی ہے۔احمدیوں پر ظلم وستم روا رکھ کر تم نے دین حق کی ہر