خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد ۹ 290 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء بہت ہی دلچسپ کیلنڈر بنا ہے۔ جسے انشاء اللہ جماعت کے استفادہ کے لئے شائع کیا جائے گا۔ اس کیلنڈر میں جو بعض نمایاں باتیں دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ سے استمبر کو یہ فیصلہ ہوا ہے صلى الله کہ آنحضرت ﷺ نعوذ باللہ ساری قوم کے نزدیک جھوٹے ہیں اور اس وجہ سے اس بات کے سزاوار ہیں کہ انہیں قتل کر دیا جائے اور ساری قوم اس میں متفق ہو جائے اور سے رستمبر ہی کو جماعت احمدیہ کے خلاف یہ فیصلہ کیا گیا اور ساری قوم اس میں متفق ہو گئی کہ یہ جماعت اسلام سے خارج اور گردن زدنی اور ہر قسم کے ظالمانہ سلوک کی مستحق اور سزاوار ہے۔ ضمنا ایک بات یہ بھی بتادوں کہ ایک اور دلچسپ تاریخ جونکی وہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کا یوم وصال بعض گہرے محققین کے نزدیک ۲۶ مئی بنتا ہے ۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یوم وصال بھی ہے ۔ یہ د ۔ یہ دیکھ کر میری توجہ آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کی طرف بھی منتقل ہو گئی کہ مسیح" میری قبر میں دفن کیا جائے گا۔ یدفن معى في قبرى ( مشکوۃ باب نزول عیسی صفحہ: ۴۸۰ ) محاورہ اس کا صلى الله مطلب یہ ہے کہ جیسا میرا انجام ویسا اس کا انجام اور تاریخ کے لحاظ سے بھی بعینہ وہی انجام بنتا ہے یعنی ۲۶ مئی کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا وصال ہوا اور ۲۶ مئی کو ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ صلى الله عروسه والسلام کا وصال ہوا۔ بہر حال یہ ایک ضمنی بات تھی ۔ یہ بات قطعی ہے کہ اس زمانے میں قوم نے ۷ ستمبر کو متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ آنحضرت مال دین اور حق سے خارج اور گردن زدنی ہیں اور اسی فیصلے کی بنیاد ے رستمبر کو جماعت احمدیہ کے خلاف بھی ڈالی گئی۔ ساری قوم نے مل کر جماعت احمدیہ کی تکذیب کا فیصلہ کیا لیکن اس سے پہلے جب یہ فیصلہ ہوا تھا اس فیصلے کے باوجود خدا تعالیٰ نے قوم کو مہلت دی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قوم کا ایک بہت بڑا حصہ ہلاک ہونے سے بچ گیا۔ پس اسی قومی تکذیب کے باوجود ان کے بچنے کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے۔ خدا کی پکڑ جب تک نہیں آتی اس وقت تک ہمیں ہر صورت قوم کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو بھی حصہ خواہ گند میں مبتلا بھی ہو چکا ہوا اگر کوئی صاف پہلو اپنی نیکی کا رکھتا ہے تو اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے اور اسے بھی نجات دے اس کے لئے بھی ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔ پس الفاظ خواہ کوئی بھی ہوں ، دعاؤں کی روح یہ ہونی چاہئے جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ، دعاؤں کے ساتھ کوشش بھی آخر وقت تک جاری