خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد ۹ 268 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء ججز نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ الف سے لے کر ی تک سارا مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے اور جتنے بڑے بڑے علماء گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے سب جھوٹے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ اس قسم کے سلوک کا آغاز آج سے تقریباً سو سال پہلے ہو چکا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سب باتوں سے خود گزرے ہیں۔اس لئے پاکستان کے لوگ یہ نہ خیال کریں کہ وہ کوئی قربانیوں کے نئے میدانوں میں داخل ہوئے ہیں ان میدانوں میں داخل ہوئے ہیں جن کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ہو چکا تھا اور سب سے زیادہ مصیبتیں اس راہ میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جھیلی ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں: ” اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلا یا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دیئے اور مخالفانہ کاروائیوں کے لئے کمیٹیاں کیں“ یہ سارے کام جو آج پاکستان میں ہو رہے ہیں ان کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کونشانہ بناتے ہوئے کیا جاچکا تھا۔مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور ان کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نا بود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام ونشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دور دور تک چلی گئیں اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرندے اس پر آرام کر رہے ہیں۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۳۳۸۴۰) آج جماعت احمد یہ اپنے روحانی آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ عرض کر سکتی ہے کہ اے ہمارے آقا! اب یہ درخت ہزاروں کو نہیں بلکہ لاکھوں کو پناہ دے رہا