خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 267
خطبات طاہر جلد ۹ 267 خطبه جمعه اارمئی ۱۹۹۰ء سے وعدے کئے تھے ان کو میں ضرور پورا کروں گا تو یہ مضمون اپنی جگہ ایک طرف ہے۔ ایک دوسرا مضمون اس میں یہ داخل ہو جاتا ہے کہ جماعت اپنے آپ کو ان وعدوں کا مستحق بنادے۔ ایسی صورت میں خدا کے فضل اس کثرت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں کہ صرف وعدوں کو پورا کرنے کی ایک وجہ نہیں رہتی بلکہ جماعت زبان حال سے خدا تعالیٰ سے یہ فضل مانگتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم بھی تو مستحق ہیں ۔ ہم نے بھی بڑی وفا کے ساتھ بڑے صبر آزما دور میں اپنے تعلق کو تیرے ساتھ قائم رکھا ہے ۔ بڑی قربانیاں دی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو تو نے وعدے کئے ہیں وہ تو تو نے پورے کرنے ہی ہیں ۔ ہم پر اس کے علاوہ بھی احسان فرما اور اس کثرت کے ساتھ ہم پر فضل نازل فرما کہ دشمن دیکھے کہ تیری محبت بارش کے قطروں کی طرح ہم پر برس رہی ہے اور وہ موسلا دھار بارش بنتی چلی جارہی ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو دعا کرتے ہوئے اہلیت کی خاطر قرآن کریم کی نصائح پر عمل کرتے ہوئے ایک مضبوط نظام کے تابع اپنی تربیت کی طرف توجہ کریں اور نئے آنے والوں کی تربیت کی طرف توجہ کریں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پڑھ کر میں اب اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں۔ وو ” یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جانکاہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کئے یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے۔ یہ جو واقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہو رہے تھے یہ سارے واقعات آج کثرت کے ساتھ پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ اس کثرت سے جھوٹی گواہیاں احمدیوں کے خلاف دی جا رہی ہیں کہ بعض دفعہ غیر احمدی حج حیران ہو جاتا ہے اور وہ مولویوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے خدا کا خوف کرو تم نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اسلام کے نام پر گواہی دینے آئے ہوا اور اتنے جھوٹ بول رہے ہو۔ کہتا ہے مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ تم جھوٹے کہتا ہے مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ چنانچہ بعض مقدموں میں احمدیوں کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے ان مجسٹریٹوں نے یا