خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد ۹ 262 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء آئیں گے ، نئی چوٹیاں ظاہر ہوں گی ایک لامتناہی سفر ہے اس سفر کا ایک چھوٹا سا نمونہ میں نے انگلستان میں آپ کے سامنے رکھا ہے یعنی جتنے نو بائعین ہیں ان میں سے آج تک میرے علم میں صرف یہ ایک انگریز ہیں جنہوں نے پورا قرآن کریم ناظرہ پڑھ لیا ہے۔اور باقی سارے اس کے بغیر پڑھے ہوئے ہیں سوائے ان واقفین کے جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا اور باقاعدہ جامعہ میں تربیت حاصل کی اللہ کے فضل سے عالم دین بنے میں ان کی بات نہیں کر رہا۔عوام الناس میں جتنے بھی نئے احمدی ہوئے ہیں ان کا یہی حال ہے پھر آپ پاکستانیوں میں سے احمدی ہونے والوں کا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ وہ اخلاص میں ترقی کریں بھی۔اس کے باوجود ان کے اندر علمی خلاء دکھائی دیں گے اور جماعت کے عقائد کے لحاظ سے ان کی گہرائی میں اترنے کے لئے ان کو ابھی کئی سفر کرنے ہیں۔اس پہلو سے تفقہ فی الدین حاصل کرنا اس طریق پر جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یہ بے حد ضروری ہے اور وقف عارضی کو اس کے ساتھ متعلق کرنا چاہئے جہاں جہاں بھی وقف عارضی کا نظام جاری ہے اور اللہ کے فضل سے لوگ اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں اس کو قرآن کریم کی اس آیت کی نصیحت کے تابع کر کے اگر مرکز میں نہیں بلایا جا سکتا تو جس جگہ بھی ممکن ہے وہاں ان کا انتظام کرنا چاہئے اور کچھ تربیت ضروری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عارضی طور پر تربیتی لٹریچر شائع کر کے ہی کسی حد تک ہم کمزوریوں کو دور کر سکتے ہیں۔دیکھیں قرآن کریم نے بڑے خوبصورت انداز میں سارے امکانات کو کھلا رکھا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ مرکز میں پہنچیں وہ لوگ کیونکہ یہ ناممکن ہے۔اسلام جو ساری دنیا میں پھیل رہا ہو کیسے ممکن ہے کہ ہر جگہ سے لوگ آکر ایک مرکز اسلام میں پہنچ کر وہاں سے دین سیکھیں۔فرمایا فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ۔نَفَر کا مطلب دو طریق پر سمجھا جا سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ ان میں سے نظر کر الگ ہو جائیں۔کچھ ایسے لوگ ہوں جو جہاں بھی ہیں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم یہ امتیاز حاصل کریں گے کہ ہم نے دین میں تفقہ حاصل کرنا ہے۔پس ظاہری طور پر وہ اپنے مقام کو نہ بھی چھوڑیں تو وہیں جہاں وہ موجود ہیں ان کے لئے تفقہ فی الدین کا انتظام ہونا ضروری ہے۔دوسرا ہے نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ کا ظاہری نفر۔یعنی وفود بن کر با قاعدہ ان میں سے ایک طبقہ سفر اختیار کرے اور وہ سفر خالصہ دین حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کیا جائے تو پیشتر اس