خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 256
خطبات طاہر جلد ۹ 256 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء کے دین کی خدمت کے لئے ایک دفعہ نکل کھڑے ہوں اس لئے ضروری ہے یا یہ ترجمہ یوں بنے گا۔فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ پھر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ان میں سے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کرتے رہیں اور پھر وہ مرکز میں پہنچ کر ، جو مرکز ان کی تربیت کا مقرر کیا گیا ہو تفقہ فی الدین حاصل کریں دین کو سمجھیں اور ایسی قابلیت پیدا کریں تا کہ وہ دوسروں کو بھی سمجھا سکیں۔تفقه في الدين صرف سرسری علم حاصل کرنے کو نہیں کہا جا تا بلکہ گہرائی سے علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔چنانچہ اس کے معا بعد جو نتیجہ نکالا وہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ یہاں تعلیم و تربیت کے لئے گروہ تیار کرنا مراد ہے۔وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ تا که جب وہ واپس لوٹیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں اور لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ تا کہ وہ بدیوں سے بچنے والے اور ہلاکت سے بچنے والے بن سکیں۔یہ دو آیتیں میں نے آج کے خطبے کے لئے اس لئے اخذ کی ہیں کہ جہاں کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو خوشخبریاں مل رہی ہیں اور فوج در فوج بعض علاقوں میں لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں، وہاں اس کے ساتھ ہی ایک انذار کا پہلو بھی ہے اور وہ انذار کا پہلو یہ ہے کہ اگر ہم ان کی تربیت سے غافل رہے۔یہ احمدیت میں داخل ہوئے اور ویسے کے ویسے ہی رہے جیسے پہلے تھے یا ان کے ایمان کے استحکام کا انتظام نہ کیا اور ان کو ثابت قدم رکھنے کے لئے دعائیں نہ کیں ان کی تربیت اس رنگ میں نہ کی کہ ان کی بدیاں ملنی شروع ہو جائیں اور ان کے بدلے نیکی کے رنگ چڑھنے شروع ہو جائیں تو یہ سارے جو نو مبائع ہیں یا جو احمدیت میں اور اسلام میں نئے داخل ہوئے ہیں یہ خطرے کی حالت میں ہیں۔کئی قسم کے خطرے ان کو درپیش ہیں اول یہ کہ ایمان کے بعد اگر کچھ عرصہ انسان علم اور تربیت سے محروم رہے تو اسی حالت میں وہ پختہ ہو جایا کرتا ہے پھر اس کو سمجھانے اور اس کی تربیت کرنے کے مواقع کم رہتے ہیں اور اگر آپ سمجھانے کی کوشش بھی کریں تو وہ شخص جو تازہ ایمان لایا ہو اس کے سمجھنے اور اس کے تعاون کرنے کے نفسیاتی طور پر زیادہ امکانات ہیں اور جو اس حالت میں دیر تک آکر سر د ہو چکا ہو اس کے تعاون کرنے کے امکانات بعید ہیں۔اس لئے کہ نئے آنے والے کی حالت ایک بچے کی سی ہوتی ہے۔ایک ایسے بچے کی سی حالت ہے جس کے کان میں اذان دینے کا حکم ہے اور جس کے دوسرے کان میں تکبیر کہنے کا حکم ہے۔پس بڑے لوگوں میں سے بھی بعض