خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 235

خطبات طاہر جلد ۹ 235 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء جگہ بچھا کر قبلہ رخ ہو کر عبادت شروع کی اور خدا سے مانگنے لگا اس کی بد قسمتی اتفاق سے اس وقت زلزلہ آگیا اور وہ پیچھے کی طرف گرا فوراً جائے نماز پیٹی اور کہا کہ اے خدا! اگر تو میری طلب نہیں پوری کرتا تو دھکے تو نہ دے یہ کون سا انصاف ہے۔ پس یہ ظالم لوگ واقعہ یہ کہتے ہوئے دنیا میں منادی کرنے نکل جاتے ہیں کہ خدا کی عبادت سے کچھ بھی نہیں ملا دھکے ہی ملے ۔ ہم نے تو عمر ضائع کر دی خواہ مخواہ مسجدوں کے پھیرے لگائے۔ بزرگوں کو دعاؤں کے لئے لکھا۔ وہاں سے کچھ بھی نہیں ملتا بے کار ہے، فضول ہے۔ اپنا جو کچھ ہے وہ بھی ضائع کرنے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جن کی نہ دنیا رہتی ہے نہ آخرت رہتی ہے۔ پس ایسی عبادت نہ کرو جس کے نتیجے میں نقد نقد سودے کے مطالبے ہر وقت جاری رہیں اور یہ کہو کہ اے خدا! دے مجھے، میرے مطالبے پورے کرور نہ پھر میں تیری عبادت نہیں کرتا خدا کو آپ کی عبادت کی کیا پرواہ ہے۔ اگر سارے انسان بھی اس کی عبادت چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کچھ بھی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عبادت بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ہے۔ خدا کے فائدے کے لئے نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی تو دنیا بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ ان کی آخرت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ کچھ بھی نہیں رہتا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ یہ ہے وہ کھلا کھلا گھاٹا ہے جس سے ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں ۔ پس رمضان المبارک میں آج کا دن بھی ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سارا رمضان ہی وصل کے مضمون سے گہرا تعلق رکھتا ہے کیونکہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ ہر عبادت کی کوئی جزاء بیان فرمائی گئی ہے اور روزوں کی جزاء خدا نے خود اپنے آپ کو ظاہر فرما دیا ہے۔ فرمایا ہے روزے کی جزاء میں ہوں کیونکہ روزے میں ساری عبادتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور عبد کا مضمون اپنے کامل وجود کے ساتھ ، اپنی کامل شان کے ساتھ انسان میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ روزہ آپ کو کسر نفسی سکھاتا ہے، غریبوں کی ہمدردی سکھاتا ہے، ان کی بھوک اور ان کی پیاس کا احساس دلاتا ہے، ان کی بے چارگی سے آپ کو باخبر کرتا ہے۔ روزے کے نتیجے میں آپ عام عبادتوں سے بڑھ کر عبادت کرتے ہیں اور اپنے جائز حقوق بھی خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑ دیتے ہیں جو عام روز مرہ کی زندگی میں آپ کے لئے جائز ہیں۔ پس تمام عبادتوں کا خلاصہ روزے میں ہے پس اسی لئے اس کی جزاء خدا تعالیٰ نے خود اپنی