خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۹ 226 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء کوئی خبر نہیں ملتی ۔ صلى الله پس یہ آیات کہاں، اور کہاں وہ آیات جن کا نام محمد مصطفی ا ہے۔ جو ان تمام آیات کا عليه۔ خلاصہ ہیں۔ جنہوں نے لاکھوں کروڑوں بندوں کو اپنا وجود دکھا کر خدا کا وجود دکھا دیا ۔ اور خدا نما صلى الله عروسه ہو گئے ۔ پس مجسم ذکر الہی بن کر اور دن اور رات خدا کو یاد کر کے ہر وہ شخص جو حضرت محمد مصطفی کی پیروی کرتا ہے وہ بھی اپنے اپنے رنگ میں خدا نما وجود بن سکتا ہے اور یہی احمدیت کا مقصد ہے۔ جب تک احمدی اس پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کرتے رہیں گے اور جب تک امام جماعت احمد یہ آنے والوں کو فخر سے یہ کہہ سکے گا کہ آؤ اور احمدیوں کا ہماری بستیوں میں مطالعہ کرو اور دیکھو کہ کیا دوسری بستیوں میں بسنے والوں سے ان میں کوئی فرق تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت تک یقیناً احمدیت زندہ رہے گی اور احمدی ان آیات میں شامل رہیں گے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر موجود ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی اور آنحضرت عليسة ﷺ کی غلامی سے ان ان کے کو بھی یہ آیات میں داخل ہونے کا شرف نصیب ہو گا اگر یہ فرق مٹ گئے اگر احمدیوں کو دیکھ کر خدا یاد نہ آئے بلکہ غیر اللہ یاد آنے لگیں تو پھر ایسا احمدی نہ آیات اللہ میں شمار ہو سکتا ہے نہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں غلاموں میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے۔ صلى الله صلى اس مضمون کے تعلق میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں اب آپ کو پھر دوبارہ پچھلے خطبات کی طرف لے کے جاتا ہوں۔ میں نے آپ سے یہ گزارش کی تھی کہ خدا کو پانے کے لئے کامل عجز اختیار کرنا ضروری ہے اور خدا کے عاجز بندوں سے تعلق بڑھانا ضروری ہے۔ خدا کے غریب اور بے سہارا اور کمزور بندوں کے لئے دل میں گہری ہمدردی کا پیدا ہونا ضروری ہے یہاں تک کہ آپ ان کے ساتھ ہو جائیں۔ ان میں سے اپنے آپ کو مار کرنے لگیں، ان کے دکھ بانٹنے لگیں، اپنے سکھ ان کے ساتھ بانٹنے لگیں، یہ لقاء کی شرط ہے آخری منزل نہیں ہے، منازل میں سے ایک منزل ہے۔ یہ وہ منزل ہے جو آپ کو عبد کے ایک معنی سمجھاتی ہے۔ عبد یعنی بندہ جب خدا کی طرف منسوب ہو تو اسے عبداللہ کہا جاتا ہے اور اللہ کا بندہ بننے سے پہلے خدا کے عام بندوں میں شامل ہونا اور عام معنوں میں عبد بننا ضروری ہے۔ ورنہ عبداللہ بننے کا انسان اہل نہیں بن سکتا ۔ پس پہلے آپ عبد کے عام معنی میں عبد بنیں اور عبد کا عام معنی ہے ایسا غلام جس کا کچھ بھی نہ ہو۔ پس جب اس تصور کے ساتھ آپ