خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد ۹ 225 خطبه جمعه ۲۰ اپریل ۱۹۹۰ء صلى الله دلیل بنتا ہے۔ ہے۔ پس سب سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو دیکھ کر خدا یاد آ سکتا ہے اس اس سے بڑھ کر کسی اور وجود کود یکھ کر خدا ظاہر نہیں ہو سکتا۔ علی پھر آنحضرت ﷺ ہی کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَفِلِينَ (الاعراف: ۲۰۶) کہ اپنے رب کو یاد کر فِي نَفْسِكَ اپنے دل میں تَضَرُّعًا نہایت عاجزی کے ساتھ وخِيفَةً اور خدا کے خوف کے ساتھ وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ اور اس طرح بھی یاد کر کہ تیری زبان سے بے شک کوئی الفاظ نہ نکل رہے ہوں لیکن یاد الہی جاری وساری ہو بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ صبح بھی اور شام کو بھی بدلتے ہوئے دن اور رات میں وَلَا تَكُنْ مِنَ الْخَفِلِينَ اور کسی حالت میں بھی اس یا دالہی سے غافل نہ رہنا۔ پس إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَت جو صلى الله ہے وہ آیات یہی حضرت اقدس محمد مصطفی علی ہیں اور یہ بات مبالغہ نہیں ہے۔ کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ کائنات کی نشانیوں کو جو جان نہیں رکھتیں، جو کوئی روح نہیں رکھتیں ان کو دیکھنے کے بعد جس خدا کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہ ایک فلسفیانہ اشارہ ہوتا ہے۔ صرف مومن ہے جو ان نشانات کو دیکھ کر ایک زندہ خدا کی طرف حرکت کرتا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ اس نے براہ راست ان نشانوں سے خدا کی طرف راہنمائی حاصل کی ، بلکہ پہلے ہی اسے خدا کے وجود کا علم ہو چکا ہوتا ہے، خدا کے وجود کو وہ کسی صاحب خدا سے پاچکا ہوتا ہے، اس کو حاصل کر چکا ہوتا ہے اس لئے اس کے لئے ساری نشانیاں خدا کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔ لیکن دنیا دار جب ان نشانیوں کو دیکھتے ہیں تو ایک خدا کا تصور تو ضرور باندھتے ہیں اور بہت سے فلسفیوں اور سائنس دانوں نے ان باتوں کا اپنے کلام میں ذکر کیا ہے اور کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہماری آنکھوں سے بھی ایک پردہ اٹھا اور ہمیں بھی معلوم ہوا کہ ان رازوں کے پیچھے کا ئنات کا ایک خالق موجود ہے۔ پس اس خالق تک وہ پہنچے لیکن اس سے آگے نہیں ۔ ایک تصوراتی خالق ان کے سامنے ابھرا لیکن ایک ایسے وجود کے طور پر جو ان کا دوست بن جائے ، ان کا رفیق ہو جائے ، ان کا محبوب ہو جائے ، ان کے ساتھ زندہ رہے اور اپنی زندگی سے ان کو زندہ رکھے، ایسے وجود تک ان کی رسائی کی