خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد ۹ 224 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء اس مضمون کی تائید میں پھر میرا ذہن حضرت اقدس محمد مصطفی میلہ کی ان صفات کی طرف منتقل ہوا جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور مجھے سمجھایا گیا کہ ان آیات کا خلاصہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے ہیں۔یعنی مومن جو یہ صفات رکھتے ہیں وہ آیات ہیں یعنی ایسی آیات جن کو دیکھ کر دنیا والے کائنات کی حقیقت کو پاسکتے ہیں ، ایسی آیات ہیں جن کو دیکھنے کے بعد جن لوگوں میں عقل ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لوگ یو نہی تو پاگل نہیں ہو گئے ، بڑے بڑے صاحب فہم لوگ ہیں ان کو کیا ہو گیا ہے کیوں ایک ایسی ذات کے عاشق ہو گئے ہیں جو ہمیں براہ راست نظر نہیں آتی۔پس وہ ان آیات کو دیکھ کر خدا کی ذات کو پا جاتے ہیں یعنی مردہ کائنات کو دیکھ کر نہیں بلکہ آیات کے زندہ نشانات دیکھ کر ، ان لوگوں کو دیکھ کر جو مجسم آیات بنے ہوئے ہیں۔پس ربوہ والی رؤیا میں در حقیقت یہی مضمون تھا کہ تمہیں اور ذرائع سے احمدیت کی سچائی کا علم ہو یا نہ ہو، ان زندہ نشانات کو دیکھو جو احمدیت نے پیدا کئے ہیں۔ان کے چہروں کو، ان کی عادات کو، ان کی حرکات و سکنات کو دیکھو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ خدا والے لوگ ہیں پھر تم دوسروں کی باتیں سن کر اپنی آنکھوں کو کیسے جھٹلاؤ گے۔پس مجھے آنحضرت ﷺ کی صفات حسنہ کو اس زاویے سے دیکھنے کی توفیق عطا ہوئی اور میرا ذہن قرآن کریم کی اس آیت کی طرف منتقل ہوا۔قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرَاتٌ رَّسُوْلًا (الطلاق:۱۱ ۱۲۰) کسی اور نبی کے متعلق جہاں تک مجھے یاد ہے ذِكْرًا کا لفظ استعمال نہیں ہوا کہ وہ مجسم یا دالہی تھا۔اور آیات کی سب سے پہلی علامت ذکر ہی بیان فرمائی گئی ہے۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيِّمًا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ اور دن رات خدا کی ذات میں محو اور خدا کی یاد میں اپنے وجود کو کھو دینے والا وجود حضرت اقدس محمد مصطفی اے کا ہی وجود تھا۔چنانچہ یہ نہیں فرمایا کہ یہ یاد کرنے والا وجود ہے۔فرمایا ذكر ا یہ اللہ کی مجسم یاد ہے۔اس کے وجود کو یاد سے الگ نہیں دکھایا جاسکتا۔کلیۂ خدا کی یا داس کے وجود کے ذرے ذرے میں سرایت کر چکی ہے۔پس تمام آیات جو کائنات میں پائی جاتی ہیں ان کا خلاصہ حضرت اقدس محمد مصطفی مانتے ہیں اور آیت کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر انسان دوسرے نشانات کو جو پچھلی باتیں ہیں ان کو پا جائے۔گویا ان معنوں میں آیت علامت کا حکم رکھتی ہے۔پس جتنی بھی آیات ہیں ان کو دیکھ کر صاحب آیات یعنی خدا تعالیٰ کا یاد آجانا یہ کسی چیز کے آیت ہونے کی