خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 217
خطبات طاہر جلد ۹ 217 خطبہ جمعہ ۱۳ اپریل ۱۹۹۰ء صلى الله ۔ بانٹیں گے اور آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی صرف خوشیاں بانٹنے میں نہیں گزری ، دکھ بانٹنے میں گزری ہے اور ایسا دکھ بانٹا ہے کہ خدا نے آپ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اپنے آپ کو ان کے غم میں ہلاک نہ کر لینا ۔ یہ وہ وسیلہ ہے جو ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ یہ وہ عاجزانہ راہیں ہیں جو ہمیں دکھائی گئی ہیں۔ ان صلى الله عليسة راہوں پر آپ چلیں تو قرآن کے الفاظ میں محمد مصطفی ﷺ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ کو ضرور لقاء نصیب ہوگا ۔ یہ وہ راہیں ہیں جو نا کام اور نامراد نہیں رکھا کرتیں۔ یہ ضرور اپنے محبوب کے در تک آپ کو پہنچا کر چھوڑیں گی۔ پس یہ رمضان نہ گزرنے دیں جب تک دعاؤں کے ذریعے اور ان اعمال کے ذریعے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں ۔ ہم خدا کو پانہ لیں اور یقین نہ کر لیں کہ اس خدا صلى الله کو ہم نے دیکھ لیا اور اس خدا نے ہمیں دیکھ لیا اور ہم نے اس کی لقاء کی جنت کو حاصل کر لیا ہے۔ خدا کرے یہ ابدی جنتیں ہمیں نصیب ہوں ۔ اگر ہم لقاء کی جنت کو اس دنیا میں پالیں تو دنیا کا کوئی غم ہمیں ڈرا نہیں سکتا ۔ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس : ۶۳) یہ وہ صاحب لقاء ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ خبردار ! خدا کے اولیاء کو تم کیسے ڈرا سکو گے ۔ تم کیسے ان کو دکھ پہنچا سکتے ہو ۔ یہ ابدی جنتوں میں بس رہے ہیں۔ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کوئی خوف اب ان پر غالب نہیں آسکتا ۔ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور کوئی نقصان ان کو حزیں بنا کر نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ہمیشہ یہ خدا کے ساتھ رہتے ہیں۔