خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 216
خطبات طاہر جلد ۹ 216 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء میں دوسروں کو شریک کرنا۔لیکن غم میں شریک ہونے والا مضمون اس سے کچھ مختلف ہے اور نفس کی اصلاح کیلئے یہ بہت ہی ضروری ہے جب ربوہ میں پہلی مرتبہ میں نے یہ نصیحت کی تھی اس عید میں آپ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں تو ساتھ ہی یہ بھی سمجھایا کہ ان کے گھروں پر بھی جائیں اور ان کے حالات دیکھیں پہلی دفعہ ان لوگوں کو جو ہمیشہ سے نیکی کرنے والے تھے واقعہ آنکھوں کے سامنے لوگوں کے دکھ نظر آئے۔اس قدر مغلوب ہوئے ہیں بعض لوگ کہ مجھے انہوں نے لکھا کہ ہم بتا نہیں سکتے کہ کیسا دکھ ہم نے محسوس کیا تھا۔کیسا اپنے آپ کو گنہگار سمجھا۔جن گھروں کو ہم سمجھتے تھے کہ ہم نے کبھی تحفے بھیج دیئے۔بڑے خوش ہو گئے بہت ان کی خدمت کر دی۔جب قریب جا کر دیکھا تو کیسی ترسی ہوئی حالت میں ان کے بچوں کو پایا ہے، کیسے دکھوں میں ان کو دیکھا ہے۔ان کے گھروں کی حالتیں دیکھی ہیں اور ہمارے اندر تو ایک انقلاب بر پا ہو گیا ہے۔پس صرف خوشیوں میں شریک نہیں ہونا، غموں میں شریک ہونا ہے اور ایک عید میں نہیں بلکہ ہمیشہ آپ بنی نوع انسان کے غموں میں شریک ہونے کی کوشش کریں۔اپنے محلوں سے اتریں اور غریبوں کی کٹیاؤں میں جائیں ، ان کو قریب سے دیکھیں، ان کے اصلاح احوال کی کوشش کریں۔لجنات ہیں ان میں سے خصوصیت سے وہ امیر بہنیں جو نیکی کا جذبہ رکھتی ہیں اور اللہ کے فضل کے ساتھ کرتی چلی جاتی ہیں۔کبھی وہ ایک ایسی کلب بھی بنائیں کہ غریبوں کے محلوں میں جا کر ( آج کل کے لحاظ سے مناسب احتیاطوں کے ساتھ یقیناً ) دیکھیں، ان کے حالات کا جائزہ لیں۔ان سے پوچھیں کہ آپ کا بجٹ چلتا کس طرح ہے۔کیا کرتے ہیں بچے کپڑے کیسے پہنتے ہیں۔کیا کھاتے ہیں اور پھر ان کو سمجھائیں کہ اس طرح تم کرو، یہ احتیاطیں کرو، یہ ضیاع نہ کرو۔صرف یہی نہیں بلکہ پھر ان کی مدد کریں۔ان کو بتائیں کہ اس معاملے میں آپ کے پاس غسل خانہ کوئی نہیں ہے، پردہ کوئی نہیں ہے، ٹائیلٹ کا انتظام اچھا نہیں ہے ، بیماری کے وقت میں گھر میں ایک عذاب بن جاتا ہے۔یہ جو ضروری چیزیں ہیں ان میں ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان چیزوں میں عملاً آپ کی ٹھوس مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ کو یہ چیزیں بنا دیتے ہیں یا زائد مدد دے دیتے ہیں جن سے آپ کو سہولت حاصل ہو جائے۔یہ وہ طریق ہے جس سے آپ صرف اپنی خوشیاں نہیں بانٹیں گے بلکہ لوگوں کے دکھ بھی