خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 215
خطبات طاہر جلد ۹ 215 خطبہ جمعہ ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء بھی جذبات اور احساسات ہیں۔پھر وہ باتیں لقاء کی کر رہا ہو یہ باتیں کرے رمضان المبارک میں اے خدا! مجھے اپنا لقاء نصیب کر دے، جسے ان کا لقاء نصیب نہیں جو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اسے خدا کا لقاء کیسے نصیب ہو سکتا ہے؟ پس جو ساتھ ہیں ان کا عرفان حاصل کریں ان کا لقاء حاصل کریں۔پھر یا درکھیں کہ یہ وہی راہ ہے جس راہ پر چل کر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے رب کو پایا تھا۔یہ ہے وسیلہ ہونے کا مضمون اس کو سمجھیں گے تو وہ آپ کے لئے وسیلہ بنیں گے۔اگر نہیں صلى الله سمجھیں گے تو محض کہنے سے اور محض زبان سے درود پڑھنے سے حضرت اقدس محمد مصطفی ملی ہے۔کے لئے وسیلہ نہیں بن سکتے۔تَقْرِى الضيف۔یہ وہ مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں نسبتاً بہتر حالت میں پایا جاتا ہے۔اکرام ضیف کا جہاں تک تعلق ہے بسا اوقات یہ اطلاعیں ملتی ہیں اور کثرت سے کہ اس طرح احمد یوں نے ہماری مہمان نوازیاں کی ہیں کہ عقل دنگ رہ گئی ہے اس لئے اس مضمون کو میں چھوڑتا ہوں۔یہ صرف کہوں گا کہ دعا کیا کریں کہ یہ خوبی جو ہم نے لنگر خانوں سے سیکھی ہے جو قادیان میں آنے والوں سے سیکھی اور قادیان میں میز بانوں سے سیکھی یہ خدا ہمیشہ ہم میں جاری اور زندہ رکھے اور کبھی بھی اس خوبی کو مٹنے نہ دے۔وتعيـن عـلـى نوائب الحق۔اور اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو جن کا بس نہیں چلتا کوئی ایسی مصیبت ، آفت پڑ جاتی ہے کہ وہ گر جاتے ہیں ان کو اٹھانے کی کوشش کیا کریں۔پس عید میں جہاں آپ اپنے خاندان کے ساتھ خوشیاں منائیں گے میں یہ نہیں کہتا کہ ان کو چھوڑ دیں ان کا بھی اپنا حق ہے، ان خوشیوں کو ضرور قائم رکھیں، ان روایات کو زندہ رکھیں لیکن جہاں تک ممکن ہو کچھ وقت غرباء کے لئے بھی نکالیں کچھ نعمتیں ان کے سامنے بھی پیش کریں تا کہ وہ بھی آپ کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔اس ضمن میں میں آخری بات یہ سمجھانی چاہتا ہوں کہ خوشیوں میں شریک کرنا اور بات ہے اور کسی کے غم میں شریک ہونا اور بات ہے اور یہ دونوں باتیں ضروری ہیں۔بہت سے امیر ایسے ہیں اور خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ میں کثرت سے ایسے ہیں جو چندوں کے علاوہ اور دینی خدمات کے علاوہ مسلسل غرباء پر کچھ خرچ کرتے ہیں ،صدقات کی صورت میں بھی اور ذاتی طور پر اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کے ذریعے بھی۔اس کو کہتے ہیں اپنی خوشیوں