خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 211

خطبات طاہر جلد ۹ 211 خطبہ جمعہ ۱۳ اپریل ۱۹۹۰ء خدا کی قسم ! حضرت محمدمصطفی ہے تو خدا تعالیٰ کے وزیر اعظم ہیں ۔ وَبِهِ الْوُصُولُ بِسُدَّةٍ صلى الله عليسة السلطان اس بادشاہ یعنی خدا تعالیٰ کی چوکھٹ پر اس وزیر اعظم کے وسیلے سے پہنچا جائے گا۔ اگر وزیر اعظم کی طرف سے حکم نصیب نہ ہو، اجازت نامہ نصیب نہ ہو تو کون ہے جو بادشاہ کی چوکھٹ تک پہنچتا ہے۔ پس آنحضرت سے ایک تعلق لازمی ہے اور وہ تعلق اسی طرح عاجزانہ ہونا چاہئے جس اصلى الله علوم حضرت اقدس محمد مصطفی علی کا تعلق عاجزانہ تھا۔ طرح حضرت علاوہ ازیں آنحضرت ﷺ کا بندوں سے بھی ایک عاجزانہ تعلق تھا اور اس مضمون کو سمجھیں d گے تو پھر آپ کے وسیلہ ہونے کا مضمون زیادہ سمجھ آجائے گا ۔ اپنے غلاموں کو دعا کے لئے کہنا ان باتوں میں دعا کے لئے کہنا جن کا حتمی طور پر فیصلہ شدہ ہونا معلوم ہو چکا تھا یہ اپنے غلاموں کے سامنے ایک عاجزانہ تعلق کا اظہار ہے۔ حضرت عمرؓ کو ایک موقعہ پر کہا۔ صلى الله بھائی ! میرے لئے دعا کرنا ۔ ( ابوداؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۱۲۸۰) پس آنحضرت ﷺ کا خدا تعالیٰ سے جو عاجزانہ تعلق تھا۔ اس کے ساتھ بنی نوع انسان کے ساتھ بھی ایک عاجزانہ تعلق تھا اور صلى الله غریبوں سے ایک گہرا تعلق تھا۔ پس محض ایک رومانی عشق کا اظہار کافی نہیں ہے۔ آنحضرت ا اگر وسیلہ بنیں گے تو ان لوگوں کے لئے بنیں گے جو آپ کے وسیلہ ہونے کے مضمون کو سمجھتے ، ہیں اور ان راہوں سے آپ کے پاس پہنچتے ہیں جو راہیں آپ نے خود ہمیں دکھائی ہیں ۔ ان میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عاجزانہ راہیں ہیں جو ہر سمت میں عاجزی کے ساتھ چلتی ہیں ۔ بنی نوع انسان سے بھی عاجزانہ تعلق ہے اور خدا سے بھی عاجزانہ تعلق ہے اور جہاں تک خدا کے غریب بندوں کا تعلق ہے ان میں اتر کر دراصل آپ نے خدا کو پایا ہے خدا کے مصیبت زدہ بندوں کی راہ سے آپ نے خدا کے وجود کو پایا۔ اس بات کا قطعی ثبوت اس واقعہ میں ملتا ہے جو نبوت کے حصول کے معا بعد پیش آیا۔ حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کو جب نبوت کے مقام پر فائز فرمایا گیا اور پہلی وحی نازل ہوئی تو جب آپ بہت عليه سخت خوفزدہ حالت میں کہ یہ کیا واقعہ مجھ سے گزر گیا ہے گھر واپس لوٹے اور اس واقعہ کا اس قدر گہرا اثر تھا کہ آپ شدت سے کانپ رہے تھے اور سخت سردی محسوس کر رہے تھے ۔ حضرت خدیجہ نے آپ کو چادریں اوڑھائیں یا لحاف ڈالے، جس قسم کی بھی اس وقت سہولت تھی تن ڈھانپنے کی ۔ اس کے بعد آپ کے خوف دور کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ آپ کے ساتھ خدا کا جو سلوک ہے وہ محض صلى الله