خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 210
خطبات طاہر جلد ۹ 210 خطبہ جمعہ ۱۳ راپریل ۱۹۹۰ء تو ہمارے آقا محمد مصطفی امیہ کو وسیلہ عطا کر اور فضیلت عطا کر اور وہ درجہ رفیعہ عطا فرما اور وہ مقام محمود عطا فرما جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔اب جسے وسیلہ بنایا گیا ہے اس کے عجز کا یہ عالم ہے کہ جن لوگوں کے لئے وسیلہ ہے ان سے کہتا ہے کہ میرے لئے دعا کرو کہ خدا تعالیٰ مجھے واقعی وسیلہ بنادے۔اس سے زیادہ بجز کا مقام متصور ہی نہیں ہو سکتا۔خدا کا قطعی وعدہ ہے کہ ہم تجھے مقام محمود ضر ور عطا کریں گے اور خدا کا یہ وعدہ سننے کے بعد ، جاننے کے باوجود کہ میرے حق میں یہ وعدہ ہے پھر وہ اپنے غلاموں کو نصیحت کرتا ہے کہ میرے لئے دعا کیا کرو کہ خدا واقعی مجھے مقام محمود عطا کرے۔پس نبوت کی کنہ کو سمجھنے کے لئے عجز کے مقام کو سمجھنا چاہئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ میرے ایمان کے مطابق تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ عاجز بندے تھے اور یہ جو دعا ہے اس قسم کی دعا آپ کو دنیا کے کسی اور نبی نے نہیں سکھائی۔مذاہب کے مطالعہ میں کم سے کم میرے علم میں ایسی کوئی دعا نظر نہیں آتی حالانکہ دوسروں کو بھی وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔حضرت مسیح کا یہ قول ہمیں ملتا ہے کہ راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا لیکن ایسی کوئی دعا نہیں ملتی جس میں اپنے غلاموں کو انہوں نے یہ نصیحت کی ہو کہ میرے لئے دعا کیا کرو کہ جو وسیلہ خدا نے مجھے بنایا ہے اور جو راہ بنایا ہے وہ واقعہ اپنے تمام تر معانی کے ساتھ مجھے نصیب ہو جائے۔پس وسیلہ ہونا اپنی ذات میں ایک بڑا گہرا مضمون ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی مے سے الله تعلق قائم کئے بغیر یہ وسیلہ نہیں نصیب ہو سکتا اور یہ تعلق جس طرح آنحضرت ﷺ کو اپنے رب سے عاجزانہ تھا، اسی طرح آپ کی امت کا فرض ہے اور اس کے بغیر راہ کوئی نہیں کہ آنحضرت ﷺ سے اپنے تعلق کو عاجزانہ بنادے اور اپنے وجود کو آنحضور کے وجود کے سامنے بچھا دے گویا کہ کلیہ آپ کی بادشاہی کو قبول کر لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی وسیلہ کے مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔والله ان محمدا كردافة وبه الوصول بسدة السلطان (القصائد الاحمدیہ صفحہ ۶)