خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد ۹ 205 خطبہ جمعہ ۱۳ار اپریل ۱۹۹۰ء حالت کا جائزہ لیتا ہوں تو اس بچے کی طرح اپنے آپ کو پاتا ہوں جو علم کے سمندر کے کنارے گھونگھوں کی تلاش میں پھر رہا ہو اور کوئی گھونگھا اٹھاتا ہے اور کان سے لگا کر سنتا ہے کہ دیکھیں اس کے اندر کیا چیز ہے جبکہ ابھی وہ سمندر میں داخل ہی نہیں ہوا ، پہلا قدم بھی اس نے نہیں رکھا۔پس قانون قدرت نے اپنے جور از خود باہر پھینک دیئے ہیں ان پر نظر کرنے والا سائنسدان اگر متکبر ہو تو وہ کسی رنگ میں بھی خدا کے وصل کا فیض نہیں پاسکتا لیکن اگر اس میں بجز ہو تو اس کی توجہ اس طرف مبذول ہوتی ہے کہ کسی حد تک وہ خدا کو پالے؟ یہ دوسری باتیں ہیں جواثر انداز ہوتی ہیں لیکن کم سے کم اس کے لئے ایک راہ کھل جاتی ہے وہ چاہے تو اس راہ پر آگے قدم بڑھا سکتا ہے۔پس اس مضمون کو جب ہم روحانی دنیا میں دیکھتے ہیں تو تمام وہ لوگ جو تکبر رکھتے ہیں وہ ہمیشہ نبوت کا انکار کرتے ہیں۔جب سے دنیا بنی ہے نبوت کا سب سے زیادہ شدت سے انکار ہوا ہے۔یہ وہم کہ یہ کوئی نیار جحان پیدا ہوا ہے اور اس رجحان کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبین قرار دیا اس کے بعد سے ختم نبوت کا تصور پیدا ہوا ہے۔یہ بالکل غلط اور بے بنیاد بات ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ یوسف کو بھی تم نے بڑے دکھ دئے تھے۔پہلے تو قبول نہیں کرتے تھے لیکن جب قبول کر لیا اور وہ ہلاک ہو گیا ، وہ چلا گیا، تو پھر تم نے یہ عقیدہ بنالیا کہ اب اس کے بعد خدا اور کسی کو نہیں بھیجے گا۔یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ نبوت کا انکار ہمیشہ ہوا ہے اور اس کی راہ میں تکبر حائل ہوا کرتا ہے۔اس مضمون کو یہ آیت کھول رہی ہے۔سَأَصْرِفُ عَنْ ايْتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں ان کے سامنے میرے نشان کھلے کھلے آتے ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے ، میں ان کے منہ پھیر دیتا ہوں۔میں ان کو اس لائق نہیں سمجھتا کہ وہ ان نشانات کی راہوں سے مجھ تک رسائی پائیں۔پھر فرمایا۔وَانْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا قرآن کریم میں اسی مضمون کو ایک اور جگہ بیان فرمایا ہے۔إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ (الانعام: ١١٠) کہ خدا کے ہاں تو بے شمار راہیں ہیں جو آیات کی صورت میں بکھری پڑی ہیں لیکن تمہیں کیا