خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 190

خطبات طاہر جلد ۹ 190 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء قرآن کریم نے ایسے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ہم ان پر نعمتیں نازل کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں۔رَبِّ اكْرَمَنِ (الفجر (۱۶) کہ دیکھو میرے رب نے میری عزت افزائی کی ہے۔رَبِّ أَكْرَمَنِ کہ میرے رب نے دیکھو میری عزت کی ہے اور جب ہم نعمتیں چھینتے ہیں تو کہتا ہے۔رَبِّيٌّ أَهَانَنِ (الفجر ۱۷) خدا نے میری توہین کر دی ہے۔یعنی خدا کون ہوتا تھا مجھے ذلت دینے والا اور رسوا کرنے والا۔اس نے یہ نعمتیں مجھ سے واپس لے کر یا مجھ پر ان کی راہیں بند کر کے میری توہین کی ہے۔پس وہ لوگ جو کائنات کو غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے وجود کو بھی غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کو یہ آیات دکھائی نہیں دیتیں اور ان کے اندر پھر تکبر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔فرمایا وَاسْتَكْبَرُوا پس آغاز شروع کیا ، آیات سے غفلت کے ذکر سے، اس کے نتیجے میں جو بیماری طبعا پیدا ہوتی ہے پھر اس مضمون کو بیان فرمایا: وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا پھر فرمایا لَا تُفَتَحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ یہ نہیں کہا کہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔فرمایا ان پر رفعتوں کا کوئی دروازہ بھی کھولا نہیں جائے گا۔کتنا عظیم الشان اور کتنا کامل مضمون ہے یعنی وہ لوگ جو خدا کے سامنے بڑے بنتے ہیں اور اونچے ہوتے ہیں ان پر رفعتوں کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔وہی ہیں جو سب سے زیادہ ذلیل اور سب سے زیادہ گرے ہوئے لوگ ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے قرآن کے اس مضمون کے مطابق اس کا برعکس نقشہ یوں کھینچا کہ خدا کے وہ بندے جو تو اضع کرتے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی خبر یہ ہے ( اس حدیث کے الفاظ تو عربی میں ہیں مجھے اس وقت یاد نہیں یعنی یاد تھے لیکن اس وقت ذہن سے گزر گئے ہیں ) کہ خدا کے وہ بندے جو خدا کے حضور تواضع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ساتویں آسمان پر اٹھا کر لے جاتا ہے۔اِلی السَّمَاء اور زنجیر سے لپیٹ کر گویا کہ ان کو آسمان کی بلندیوں پر نہیں بلکہ ساتویں آسمان کی بلندیوں تک پہنچا یا جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے فرمایا۔وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ جو تکبر کرتا ہے اس پر رفعتوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔یہ الفاظ ہیں اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابع ( کنز العمال صفحه: ۲/۲۵) کہ جب بھی خدا کا کوئی بندہ تواضع کرتا ہے یعنی جھکتا ہے گرتا ہے۔اس کے حضور عاجزی اختیار کرتا ہے۔رفعه الله الى السماء السابع اس کو خدا ساتویں آسمان کی بلندی تک اٹھا لے جاتا ہے۔الله