خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 189

خطبات طاہر جلد ۹ 189 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء ہمارے نشانات کو جھٹلایا۔وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا اور ان سے تکبر اختیار کیا۔لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔وَلَا يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِ الْخِيَاطِ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔اب دیکھیں ان دونوں عبارتوں میں کتنا فرق ہے۔اول تو محض دولت مند کا بیان نہیں فرمایا گیا بلکہ ہر قسم کی تکذیب کرنے والے کو متکبر فرمایا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کے نشانات بے شمار ہیں۔یہاں صرف انبیاء کی تکذیب مراد نہیں ہے بلکہ ساری کائنات میں اللہ تعالیٰ کی آیات پھیلی پڑی ہیں اور متکبر ہر آیت کی تکذیب کرتا چلا جاتا ہے۔وہ دیکھتا ہے،استفادہ کرتا ہے۔خدا کی آیات میں دن رات ڈوبا ہوا ہے۔ان آیات کے سہارے زندہ ہے، ہر سانس ان آیات کا محتاج ہے۔زندگی کا ہر لمحہ ان آیات کے سہارے چل رہا ہے اور ایسا غافل ہے اور ایسا بے وقوف اور اندھا ہے کہ اس کے باوجودان سے تکبر کی راہ اختیار کرتا ہے۔سمجھتا ہے کہ میری ادنی غلام ہیں میں جس طرح چاہوں ان سے سلوک کروں اور کوئی مالک نہیں ہے جس کے سامنے میں اپنے اس استفادے کے لحاظ سے جوابدہ ہوں۔یہ چیزیں ہیں جو میرے فائدہ کی خاطر اس طرح بنائی گئی ہیں جیسے میں مالک ہوں اور یہ چیزیں میرے لئے بنائی جانی خدا پر فرض تھیں۔یہ رجحان ہے جو متکبر کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔پس جہاں اس کا فضل اپنا ہاتھ کھینچ لے وہیں ایسا شخص اچانک نگا ہو جاتا ہے یعنی اس کا رجحان بالکل کھل کر سامنے آجاتا ہے۔وہ کہتا ہے ہیں، ہیں! یہ خدا ہوتا کون ہے میرے ساتھ یہ سلوک کرنے والا۔اتنی دنیا پڑی ہوئی ہے۔فلاں ٹھیک ہے فلاں ٹھیک ہے۔مجھے ہی بیمار ہونا تھا۔میرے بچوں پر ہی مصیبت ٹوٹنی تھی اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کی ساری زندگی ، اس کے وجود کا ایک ایک ذرہ، اس کی یہ طاقت کہ خدا پر باتیں کرتا ہے۔یہ بھی خدا کی آیات میں لپٹی ہوئی ایک داستان ہے جو انہی کے ذریعے چل رہی ہے۔اس داستان کا اپنا کوئی وجود نہیں۔آیات کے ذریعے ہی یہ داستان دکھائی دیتی ہے گویا ہے لیکن حقیقت میں صرف آیات ہی ہیں۔پس آیات باری تعالیٰ سے روگردانی کرنا اور اس سے منہ موڑ لینا یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ یہ بخشش کے لائق نہیں اور یہی حقیقت میں تکبر کو پیدا کرنے والا گناہ ہے جس سے پھر تکبر پیدا ہوتا ہے اور بالآخر انسان بخشش سے محروم رہ جاتا ہے۔