خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 169

خطبات طاہر جلد ۹ 169 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء آنے والے بھی ہیں کہ نہیں یعنی انہوں نے تو بہر حال واپس نہیں آنا جو مدتوں پہلے گزر گئے لیکن خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق یکطرفہ نظارہ ایسی ہی کیفیت پیدا کرتا ہے ابہام کی اور تفکرات کی اور سوچ کی کہ وہ کون ہے کہاں ہے؟ ہے بھی کہ نہیں؟ پس وہ قو میں جو دنیا دار ہو گئیں ان کو اگر اتنی بصیرت نصیب ہوئی کہ انہوں نے خدا کی ہستی کے آثار دیکھے ان میں سے کئی فلاسفرایسی کتابیں لکھتے ہیں کہ خدا Dead ہے یعنی ہوگا ضرور ہم انکار نہیں کر سکتے لیکن اب نہیں رہاوہ قومیں جو الہام کی منکر ہو جاتی ہیں ان کا بھی خدا مر جاتا ہے۔پس اگلا قدم لقاء کا بہت ضروری ہے اور اس کے لئے اپنے ذوق کی لطافت پیدا کرنا ضروری ہے۔اپنے گھر کو سجانا ضروری ہے۔عام معمولی مہمان کے لئے بھی آپ تیاری کرتے ہیں، کچھ نہ کچھ حسب توفیق اپنے گھر کو سجاتے ہیں، اگر غریب بھی ہو تو کچھ کھانے کا معیار بلند کر لیتا ہے۔جس حد تک بھی اس کو تو فیق ہو تو جب خدا کا نظارہ کیا اور دل یہ چاہا کہ وہ آپ کی ذات میں داخل ہو جائے تو اس کے لئے آپ کو ضرور تیاری کرنی ہوگی اور اس تیاری کا پہلا قدم اعلیٰ اخلاق ہیں۔اعلیٰ اخلاق کے بغیر حقیقت میں خدا کی لقاء ممکن نہیں ہے۔جزوی لقاء تو ہوسکتی ہے کیونکہ لقاء کے بعض نظارے جزوی اصلاح سے بھی تعلق رکھتے ہیں لیکن یہ ایک اتفاقی واقعہ، اتفاقی حادثے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔وہ لقاء جو دائمی لقاء ہے جو مسلسل خدا کی ذات میں آگے بڑھنے کا نام ہے وہ لقاء اخلاقی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔آپ کو کسی انسان کا حسن دل لبھانے والا دکھائی دے۔آپ کے اندر ایک کشش پیدا ہو جائے۔آپ جب اس سے ملتے ہیں تو کچھ دیر کے بعد آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بات نہیں۔ہمیں خواہ مخواہ کی کچھ دلچسپی پیدا ہوگئی تھی ، ظاہری شکل وصورت ہے مگر کوئی ایسے اخلاق نہیں ہیں کہ جو اس کشش کو دوام بخش سکیں جو پہلے پیدا ہوئی تھی۔بعض دفعہ تو معمولی سی بات سے بھی ساری کشش کا فور ہو کر اڑ جاتی ہے۔انگلستان کے ایک مصنف ہیں جنہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ میں ایک دفعہ ایک دکان میں داخل ہوا اور وہاں ایک ایسی حسینہ مجھے دکھائی دی جس کو دیکھ کر مجھے یقین آگیا کہ ایک نظر میں محبت ممکن ہے اور چند لمحوں بعد اس سے ملاقات کا بھی ایک سامان پیدا ہو گیا۔اس کے ہاتھ سے کوئی بنڈل تھا جو گر گیا۔میں نے دوڑ کر لپک کر اس بنڈل کو اٹھایا اور اس کے سپر د کیا۔اس نے جس Flat آواز میں شکریہ ادا کیا وہ اس طرح جذبات سے عاری، خالی