خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد ۹ 165 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء ہے؟ صورتوں میں خارج ہوتے رہتے ہیں ، جن کے بند ہونے پر جسم ایک عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ان سب کیفیات پر غور کے نتیجے میں ان کو اپنی کائنات کے اندر بھی خدا دکھائی دینے لگتا ہے۔اپنے وجود کے ذرے ذرے میں خدا دکھائی دینے لگتا ہے۔بسا اوقات ایسے لوگوں سے گفتگو ہوئی اور ہوتی ہے جو خدا کی ہستی کے قائل نہ ہوں اور مختلف رنگ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔بعض دفعہ جو انسانی جسم کا شعور رکھنے والے لوگ ہیں جب وہ ملتے ہیں تو میں نے ان سے مثلاً یہ سوال کیا کہ کبھی آپ نے اپنے اوپر غور بھی کیا کہ آپ ہیں کون؟ آپ کے اندر جو یہ شعور ہے کہ میں ہوں۔یہ فزکس کا کوئی قانون ہے یا کیمسٹری کا قانون ہے وہ میں کیا چیز ہے جو بول رہی ہے۔آپ کو دکھ کیوں پہنچتا حالانکہ دکھ محسوس کرنا اور خوشی محسوس کرنا اس کے لئے کوئی فزیکل اور کیمیکل Justification ہونی چاہئے۔کوئی اس کے لئے جواز ہونا چاہئے۔میں نے کہا میں نے آپ کو بری نظر سے دیکھ لیا آپ تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔کون سا قانون ہے فزکس کا اور کیمسٹری کا یا کوئی اور قانون جس کو آپ مادی زندگی میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایسی حرکتیں اس سے پیدا ہوتی ہوں ؟ میں نے آپ کے اوپر محبت کی نظر ڈالی اگر آپ کو مجھ سے تعلق ہے تو آپ کا دل خوش ہو گیا۔یہ کیا مطلب ہے اس کا؟ یہ کیا چیز ہے؟ ایک معمولی سی بات پر بھی آپ اپنی کیفیتوں پر غور کرنا شروع کریں تو آپ کو خدا کا حیرت انگیز ہاتھ دکھائی دینے لگے گا۔پھر میں نے بعض دفعہ ان سے پوچھا کہ اپنی آنکھ پر غور کریں۔آنکھ کا ارتقاء کیسے ہوا؟ ایک مکمل کیمرے سے بڑھ کر خوبصورت سیٹ ہے جو خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اور تدریج اس میں ممکن ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کے تمام اجزاء ا کٹھے پیدا ہوئے ہوں یہ ممکن نہیں ہے کہ Retina پہلے Automatically پیدا ہو جائے اور بغیر کسی مقصد کے اتفاقاً پیدا ہو جائے اور Lens ابھی نہ بنا ہو اور Lens بھی پھر اپنی ذات میں جو مختلف اعضا ء رکھتا ہے اور اس کے ارد گرد جو مسلز کا نظام ہے جو اس کو کنٹرول کرتا ہے وہ اگر کام نہ کرےتو Lens کا کوئی بھی معنی نہیں ہے۔وہ مسلز جب بڑھاپے میں ڈھیلے پڑ جاتے ہیں تو آپ کو انہی آنکھوں کے ساتھ نظر آنا بند ہو جاتا ہے۔آپ اپنے آپ کو ایک آنکھ پر Adjust ہی نہیں کر سکتے ، میں نے کہا آپ غور کر کے دیکھیں۔اگر آپ کے اندر کوئی صداقت ہے تو آپ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ایک ایسا خالق ہے جو ماوراء ہے میں نہیں ہوں۔اگر میں اپنا خالق آپ ہوتا تو مجھے تو ان سب باتوں کا علم