خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد ۹ 164 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء اور فکر اور تدبر کی عادت ضروری ہے۔اس کے لئے اولی الالباب ہونا ضروری ہے۔اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَتٍ لِأُولِى الْأَلْبَابِ ( آل عمران : ۱۹۱) یقینا دن کے الٹنے پلٹنے میں ، موسموں کے بدلنے میں نشانات ہیں مگر صاحب عقل لوگوں کے لئے وہ جو ان چیزوں کو دیکھتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔يَذْكُرُونَ اللہ اللہ کو یاد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔قیما و قُعُودًا نمازوں کا انتظار نہیں کرتے کہ نماز پڑھیں گے تو یاد کریں گے بلکہ جس حالت میں بھی وہ کائنات کے مناظر دیکھتے ہیں، اسی حالت میں خدا تعالیٰ کو یاد کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ جو کیفیت ہے یہ خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں بیان فرمائی جیسے کوئی خودرو بہتا ہوا پانی ہو۔اس میں جدو جہد، کوشش، محنت کا دخل نہ ہو بلکہ طبیعت کی ایک عادت بن چکی ہو۔پس اس پہلو سے آفاق کا مطالعہ بہت ہی ضروری ہے کہ آپ کی عادت بن جائے کہ آپ کو اپنے گردو پیش میں خدا تعالی دکھائی دینے لگے اور اس کی یاد دل میں پیدا ہو۔پھر اندرونی مطالعہ ہے جو انسان اپنے دل میں ڈوب کر ، اپنے نفس کی شناسائی حاصل کر کے خدا تعالیٰ کو پاتا ہے۔اس ضمن میں بھی مطالعہ کی بہت سے قسمیں ہیں۔ایک تو اپنے نظام کو جو ظاہری نظام ہے، اس کو دیکھنا اور اس پر غور کرنا اور اس پر یہ احساس کرنا کہ خدا تعالیٰ نے کتنا حیرت انگیز جسمانی نظام انسان کو بخشا ہے اور کتنی باریک نظر سے ہماری راحتوں کا سامان مہیا فرمایا ہے۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جس میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، سطحی بھی ہے لیکن اس میں گہرائی بھی بہت ہے۔جتنا سائنس دان جستجو کرتا چلا جاتا ہے، اس کو انسانی جسم کے اندر حیرت انگیز نظم وضبط اور تخلیق کے ایسے عظیم کارنامے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ اس کی روشنی سے اس کی نظر خیرہ ہو جاتی ہے اور جتنا آگے سفر کرتا ہے اتنا ہی مزید اس کو اور اس کے پیچھے، کچھ اور اس کے پیچھے کچھ اور دکھائی دینے لگتا ہے لیکن یہی مطالعہ چونکہ ایک اندھی آنکھ کا مطالعہ ہے یعنی روحانیت سے اندھی ہے۔وہ اسے خدا کی طرف نہیں لے کے جاتا لیکن اس کے برعکس جو اولی الالباب ہیں، وہ جب اپنی ذات پر غور کرتے ہیں۔اپنے روز مرہ کے رہن سہن پہ اپنی بھوک پر، اپنی پیاس پر ان سب زہروں پر جو ہر وقت جسم سے مختلف