خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد ۹ 163 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء خدا تعالی کی لقاء کے لئے لطیف ذوق کے سوالقاء کا تصور ہی بالکل بچگانہ تصور ہے۔پس خدا تعالیٰ کی ذات میں گم ہونے اور اس کی ذات میں سفر کرنے کے لئے اس کی تیاری بھی ضروری ہے اور وہ ذوق جو انسانوں کی نظر میں انسان کو ایک مرتبہ اور مقام عطا کرتا ہے۔وہی ذوق ہے جو مزید لطافت اختیار کرتا ہے تو خدا کی نظر میں انسان کو ایک مرتبہ اور ایک مقام عطا کرتا ہے۔پس جو لوگ اپنے انسانی واسطوں اور تعلقات میں لطیف مزاج پیدا نہیں کرتے ، اچھے ذوق کا مظاہرہ نہیں کرتے ، جن کی زبان گندی اور کثیف رہتی ہے، جو معاملات میں سختی کرتے ہیں اور ان کے اندر کوئی چک نہیں پائی جاتی، ان کے اندر کوئی لطافت نہیں پائی جاتی ، ان کا یہ توقع کر لینا کہ محض رمضان کی دعاؤں کے نتیجے میں خدا سے ان کی ملاقات ہوگی یہ ایک بچگا نہ توقع ہے۔اس میں یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ خدا ملاقات کرنے پر پابند ہے۔وہ مالک ہے جب چاہے کوئی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔لیکن جن کے لئے وہ لقاء کی عطا کا فیصلہ کرتا ہے ان کے ذوق میں ضرور تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔پس اگر آپ کے ذوق میں وہ تبدیلی پیدا نہیں ہورہی جو لقاء باری تعالیٰ کے لئے ضروری ہے تو آپ یہ سمجھیں کہ آپ دعا تو مانگ رہے ہیں لیکن آپ نے تیاری کوئی نہیں کی۔ظاہری آنکھ سے جیسا کہ میں نے دیکھا ہے آپ دنیا کو دیکھتے چلے جاتے ہیں، صبح شام ظاہر ہوتے ہیں ،موسم بدلتے ہیں۔کسی جگہ خوبصورت نظارہ کرتے ہیں کسی جگہ ایک مکروہ منظر دیکھتے ہیں ان تمام امور سے اگر نظر تھرکتی ہوئی چلی جائے اور خدا تعالیٰ سے تعلق قائم نہ کرے اور خدا تعالیٰ کا خیال دل میں نہ آئے تو آپ نے ظاہری نظارے تو بہت کئے لیکن اس کے باوجود خدا کو نہ دیکھا۔ایسا ہی ہے جیسے بعض انسانوں کے ساتھ آپ رہے لیکن ان سے آپ کو کوئی شناسائی نصیب نہیں ہوئی۔پس پہلے تو آفاقی نظر سے بھی خدا کو دیکھنے اور اس کی لقاء کی کوشش شروع کریں۔یہ ایک بہت سطحی لقاء ہے لیکن اس لقاء کا لطف آپ کے اندر مزید ذوق پیدا کرے گا اور اس ذوق کے نتیجہ میں پھر آپ کو گہری روحانی لقاء بھی نصیب ہوگی۔یہ جو میں نے کیفیتیں بیان کی ہیں، ان کیفیتوں کو میں نے آفاقی اس لئے کہا کہ آپ باہر تمام کائنات میں جب بھی نظر ڈالتے ہیں کوئی نہ کوئی ایسا منظر ضرور دکھائی دیتا ہے جس کے ساتھ آپ کو خدا شناسی ہو سکے لیکن اس کے لئے غور