خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد ۹ 11 خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۹۰ء کی کہ اس نے وہ عقل کمائی ہو یعنی پھر سنئے غور سے ! کہ کبھی کسی چیز نے اس سے بہتر سمائی نہیں کی کہ اس نے وہ عقل حاصل کی ہو یا وہ عقل کمائی ہو۔جس سے وہ ہدایت کی طرف راہنمائی حاصل کر سکے اور بری چیزوں سے بچ سکے اور بری چیزوں سے پیچھے ہٹ سکے۔یہ جو عقل کی تعریف ہے اس کا تقویٰ کی ایک تعریف پر انطباق ہوتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔چنانچہ دو پہلواس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصیت سے بیان فرمائے اول یہ کہ ایک عقل ہے جو محنت سے کمائی جاتی ہے علم کے ذریعے اس کو حاصل کیا جاتا ہے۔اور اس عقل کی پہچان یہ ہے کہ ہدایت کی چیز نظر آنی شروع ہو جائے اور صرف نظر نہ آئے بلکہ انسان اس کو حاصل کرے۔اگر ہدایت کی چیز کو دیکھ لے، پہچان لے اور حاصل نہ کرے اس کا نام عقل نہیں ہے۔بری چیز میں تمیز کر سکے اور پھر اس سے بچ سکے۔اس کا نام عقل ہے اور یہی مضمون تقویٰ کا ہے۔قرآن کریم نے فرمایا: ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره:٣) که یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے، ہر قسم کے شکوک سے بالا ہے لیکن یہ علم کافی نہیں محض اس بات کا علم ہو جانا کہ کوئی چیز ہدایت ہے یہ کافی نہیں۔تقویٰ وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے اس علم سے استفادہ ہوگا۔پس هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ کتاب ہدایت ہے متقیوں کے لئے اور دیکھئے آنحضرت عقل کی یہی تعریف فرمارہے ہیں کہ عقل اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے ہدایت نظر بھی آئے اور انسان اختیار بھی کرلے۔دوسری جگہ قرآن کریم میں جو تقویٰ کی تعریف ہے وہ ایک یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ غلط چیزوں سے پر ہیز اور بچنا ، گناہوں کے مقامات سے ہٹنا اور یہی مضمون حدیث میں بیان ہوا ہے کہ عقل کی دوسری تعریف یہ ہے کہ انسان مضرات سے پر ہیز کرے اور نقصان دہ چیزوں سے بچ جائے۔پس یہاں جو پہلے خدا تعالیٰ نے فرمایا۔اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس مثال میں جو سادہ سی ہے، صاف نظر آ رہی ہے۔اس مثال میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں۔ان لوگوں کے لئے فائدے کی چیزیں ہیں جو یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ جب اچھی چیز کو دیکھیں تو اس کو اختیار کر لیں اور بری چیز کو دیکھیں تو اس سے بچ جائیں۔پس عقل اس انسانی تمیز کی طاقت کو کہتے ہیں جو ابتدائی حالت میں ذی شعور انسان میں پائی جاتی ہے اور اس پہلو سے جانوروں میں بھی ایک حصہ عقل کا ملتا ہے لیکن جہاں فکر کا ذکر فرمایا وہ فکر کی طاقت