خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 150

خطبات طاہر جلد ۹ 150 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء گیا ہے۔فرمایا وہ کیسے جاہل لوگ ہیں جو لقاء کا انکار کر دیتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ایک بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں لقاء عطا فرمائی ہے اور اس سے کہا کہ یہ عام اعلان کر دو کہ یہ لقا میرے لئے خاص نہیں بلکہ میرے تعلق کے نتیجے میں جس تو حید کی میں تعلیم دیتا ہوں اگر اُس کے ساتھ تم وابستہ ہو جاؤ اور نیک اعمال کرو تو تمہیں بھی خدا اس دنیا میں لقاء عطا کر دے گا۔پس لقاء کا مضمون ایک صلائے عام ہے۔ہر انسان کے ساتھ اس کا تعلق ہے اور ہر انسان کو اس دنیا میں لقاء کی لازماً کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس مضمون سے غافل رہ کر زندگی بسر کرنے کے نتیجے میں یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ انسان اس دنیا میں خدا کی لقاء حاصل نہیں کر سکا وہ آخرت میں بھی لقاء سے محروم رہے گا۔پس یہ بہت ہی اہم مضمون ہے اس کو جماعت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔صاحب لقاء لوگ اگر نصیب ہو جائیں اگر کسی جماعت کی اکثریت صاحب لقاء بن جائے تو عظیم الشان روحانی انقلاب بر پا ہوں۔ایک صاحب لقاء بندے سے بھی بعض دفعہ روحانی انقلاب کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔چنانچہ تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ کامل اندھیرے کے زمانے میں جبکہ تمام دنیا کا خدا سے تعلق کٹ چکا ہوتا ہے ایک بندہ ایسا اُٹھتا ہے جو خدا سے تعلق قائم کرتا ہے اور اُس سے لقاء حاصل کر لیتا ہے اور پھر اُس لقاء کو آگے اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے جیسے کوئی ساقی شراب بانٹتا ہے اور اعلان عام کر کر کے صلائے عام دے دے کر لوگوں کو بلاتا ہے کہ آؤ اور میرے مے خانے سے شراب بٹ رہی ہے آؤ اور اس سے حصہ لو۔چنانچہ یہ جو آیت ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يوحى إلی یہ اسی قسم کی صلائے عام کا اعلان کر رہی ہے۔فرماتا ہے ان کو بتاؤ کہ میں بھی تو تمہاری طرح کا ہی بشر تھا۔تم جیسے ہی تھا دیکھنے میں۔مجھ میں اگر فرق پڑا ہے تو لقاء کے نتیجے میں فرق پڑا ہے اور لقاء کا دوسرا معنیٰ وحی الہی ہے۔خدا تعالیٰ سے خبریں پانا، خدا تعالیٰ سے تعلق کے اظہار کی باتیں سننا اور رویا اور کشوف سے اُس کو دیکھنا ورنہ ظاہری آنکھ سے تو خدا کی لقاء ممکن نہیں۔پس یہاں لقاء کی تفسیر بھی فرما دی کہ لقاء "وحی" کو کہتے ہیں اور اس دنیا میں صاحب وحی ہو جانا یہ نہ صرف یہ کہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے بلکہ ہر انسان کے لئے ضروری ہے اور جو قو میں وحی کا انکار کر بیٹھتی ہیں ان کے اعمال اس دنیا میں ضائع کر دیئے جاتے ہیں۔پس آج احمدیت کا اور غیر احمدیت کا سب سے بڑا فرق یہی ہے۔آج دنیا کے اکثر