خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد ۹ 148 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۹۰ء نے پوچھا کہ یہ کیوں تو آپ کی زوجہ مبارکہ نے جواب دیا کہ یہ اس لئے کہ میں اتنا دیر کھڑا رہتی ہوں خدا کے حضور کہ تھک کر گرنے لگتی ہوں اُس وقت میں اس رسی کا سہارا لے لیتی ہوں۔تو آنحضرت نے اس غیر معمولی محنت شاقہ سے منع فرمایا لیکن اپنی ذات میں آپ کی عبادت بھی بہت محنت طلب تھی اور بعض اوقات آپ کے عبادت میں کھڑے کھڑے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔تو اس میں جو دانتوں سے کاٹنے کا مفہوم ہے یہ بھی عملاً خدا کی راہ میں محنت کرنے پر صادق آتا ہے۔پس لقاء کے لئے جو کوشش ہونی چاہئے اُس میں ان محنتوں کے علاوہ دُعا کا پہلو بھی سامنے رکھیں اور رمضان مبارک چونکہ خود خدا کو ہمارے قریب لے آتا ہے اور چونکہ رمضان مبارک کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خوشخبری دی ہے کہ ہر نیکی کی کوئی جزاء مقرر ہے لیکن روزوں کی جزاء خدا خود ہے۔تو اس لحاظ سے اس کا لقاء کے مضمون سے بہت گہرا تعلق ہے۔پس اس مہینے میں لقاء کی دُعا کرنا اور لقاء کے لئے کوشش کرنا یقیناً دوسرے مہینوں کی نسبت بہت زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔ایک غلط نہی بعض علماء کے دل میں اور عام مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔یہاں جس لقاء کا وعدہ کیا گیا ہے وہ لقائے آخرت ہے اور ہر انسان اس کا مخاطب ہے اور اس سے مطلب اس کا یہ ہے کہ آخرت میں لقاء نصیب ہوگی۔یہ بات ایک لحاظ سے تو درست ہے کہ ہر انسان طوعاً و کرھا گڈ حا قیامت کے دن خدا کے حضور حاضر کیا جائے گا مگر یہ درست نہیں کہ ہر انسان کولقاء نصیب ہوگی۔یہ محض ایک غلط نہی ہے اور قرآن کریم اس کی واضح تر دید فرماتا ہے۔لقاء کے نصیب ہونے کے لئے ضروری شرط ہے کہ اس دنیا میں لقاء نصیب ہو مَنْ كَانَ فِي هَذِهَ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى (بنی اسرائیل : ۷۳ ) وہ لوگ جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ خدا کی لقاء آخرت میں کیسے حاصل کر سکیں گے۔فرمایا فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْى وہ تو قیامت کے دن بھی اندھا رہے گا۔پس حاضر ہو جانا اور مضمون رکھتا ہے اور لقاء نصیب ہو جانا اور مضمون رکھتا ہے۔ہر چیز خدا کے حضور لوٹائی ضرور جائے گی لیکن یہ کہنا کہ لقاء نصیب ہوگی یہ درست نہیں۔پس اگر ہر انسان مخاطب ہے تو اس دنیا میں لقاء مراد ہے کہ اے بندو! تم میں سے ہر ایک کو میں نے یہ صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر تم میری راہ میں محنت کرو گے تو میں تمہیں اپنی لقاء عطا کروں گا۔پس یہ محنت کرو اور یہ صلائے عام ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم کی ایک اور آیت بہت کھول کر