خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد ۹ 10 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء انہوں نے جسمانی لحاظ سے حیوانات کو درجوں میں تقسیم کیا ہے۔لیکن قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ دراصل ارتقاء عقل کا ارتقاء ہے اور ہوش کا ارتقاء ہے،شعور کا ارتقاء ہے اور اول سے آخر تک جو چیز ترقی کر رہی ہے وہ شعور ترقی کر رہا ہے۔اس لئے حیوانات کی تقسیم ان کے شعور کے لحاظ سے ہونی چاہئے۔کیونکہ ارتقاء نام ہی شعور کے ارتقاء کا ہے جسم کا ارتقاء نہ کبھی مقصود تھا، نہ حیوانات کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسم کا ارتقاء قانون قدرت کے نزدیک کوئی معنی رکھتا تھا۔اسی حد تک جسم کا ارتقاء ضروری تھا اور ہوا جس حد تک عقل کو اس کی ضرورت تھی اس کے مطابق جسم ڈھالے گئے۔لیکن جسم کو عقل پر کبھی بھی فضیلت عطا نہیں ہوئی۔چنانچہ بہت بڑے بڑے جسم رکھنے والے جانور جن کوڈائنو سار Dinosaur کہا جاتا ہے۔ان سے زیادہ عظیم جسم کا تصور نہیں ہوسکتا وہ آنا فانا حیوانی تاریخ میں ہلاک کر دیئے گئے۔سائنس دان جب آنا فانا کہتے ہیں تو یہ مراد نہیں ہے کہ چند منٹوں میں۔حیوانی تاریخ اتنی وسیع ہے کہ کروڑوں سال تک پھیلی ہوئی ہے کروڑہا کروڑ سال تک اس لئے جب وہ آنا فانا کہتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ شاید دس لاکھ سال ہو گئے ہوں یا چند لاکھ سال گزرے ہوں مگر یہ عرصہ حیوانی تخلیق اور ارتقاء کے دور میں آنا فانا ہی کہلاتا ہے۔پس ان سب کی صف لپیٹ دی گئی اور جسم پر ان کو جو فضیلت حاصل تھی اس کے نتیجے میں ان سے فضیلت کا کوئی سلوک نہیں کیا گیا۔پس قرآن کریم اسی مضمون کو یہاں بیان فرماتا ہے کہ یہ عقل کا معاملہ ہے۔عقل کے ذریعہ تمہیں اس پر غور کرنا ہوگا اور عقل کی تعریف کیا ہے؟ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انتہائی گہری تعریف فرمائی۔فرمایا : ما خلق الله خلقا اكرمه عليه من العقل كه خدا تعالیٰ نے کوئی بھی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جس کو اس کی عقل کی نسبت سے زیادہ عزت بخشی ہو اور یہاں عقل سے مراد کمائی ہوئی عقل نہیں ہے جو علم کے ساتھ مل کر پھر اور ترقی پاتی ہے بلکہ ودیعت شدہ عقل ہے جو فطرت میں ودیعت کی جاتی ہے اور اس پر جانور کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے۔دوسری حدیث میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کمائی ہوئی عقل کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور لفظ کمانے کا اس پر استعمال فرماتے ہیں۔فرمایاما کسب احد شيئا افضل من عقل يهديه الى هدى او يرد عن ردا (مفردات امام راغب کتاب العین ) کہ کبھی کسی شخص نے کسی چیز نے اس سے بہتر کمائی نہیں