خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۹ 138 خطبہ جمعہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء تاریخ عالم میں شاید ایک بھی مثال آپ کو نظر نہ آئے کہ اتنی لمبی حکومت کے بعد ایک سو سال کے اندر اندران آٹھ سو سال کے تمام نشانات مٹادئے گئے ہوں۔سوائے ان ظاہری نشانات کے جو قلعوں اور قبرستانوں کی صورت میں آپ کو سرزمین اندلس اور سپین کے دیگر علاقوں میں پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے کتنا دردناک عبرت کا نشان ہے ان مسلمانوں کے لئے جو آج بھی بلند آواز سے دنیا میں یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے دین کو پھیلانے کی اجازت دیتا ہے ، اور اسی کا نام مقدس جہاد ہے۔ہر گز نہیں اس مقدس جہاد کو تو اس طرح شکست فاش دی جاچکی ہے۔اور سپین کی سرزمین ہمیشہ اس بات پر گواہ رہے گی کہ اگر یہ مقدس جہاد ہے تو اس مقدس جہاد کی کوئی بھی قیمت نہیں۔ہاں دلوں کی فتح کا جہاد جو قرآن بتا تا ہے اس کی عظمت کے گیت تمام دنیا کے مسلمان علاقے گارہے ہیں جہاں پیغام نے دلوں اور دماغوں کو فتح کیا تھا اور آج تک وہاں باوجود مخالفانہ کوششوں کے اسلام کے نشان نہیں مٹائے جا سکے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر اسلام ان علاقوں میں دوبارہ بڑی شان سے ابھر رہا ہے۔پس جماعت احمدیہ نے اب وہ کام جو تلوار سے نہیں ہو سکا تھا، محبت اور پیار سے کرنا ہے۔وہ دل جن میں تلوار نے نفرت کے بیج بوئے اور مسلمان حاکموں نے نفرت کی فصلیں کاٹی تھیں آج آپ نے ان دلوں کو صاف کر کے ان میں محبت کے بیج بونے ہیں اور محبت کے ذریعے سپین کی سرز مین کو دوبارہ اسلام کے لئے فتح کرتا ہے۔ایک ایسی فتح کرنی ہے جو دائمی فتح ہوگی۔ایک ایسی فتح کرنی ہے جو قیامت تک قائم و دائم رہے گی اور کوئی دنیا کی طاقت اس فتح کو مٹا نہیں سکے گی۔اس کے لئے ہم ایک چھوٹی سی جماعت ہیں، ہمارے کندھوں پر بہت سے بوجھ ہیں۔تمام دنیا میں ہم نے اسلام کی عظمت اور اسلامی تعلیم کی عظمت کے جھنڈے گاڑنے ہیں اس لئے ہر ملک کو اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالنی ہوں گی۔یہ پیغام ہے جو میں سپین کے احمدی مسلمانوں کو دینا چاہتا ہوں۔آپ غفلت کی حالت میں نہ بیٹھے رہیں اگر آپ نے اس زمین کو فتح نہ کیا تو اور کہیں سے لوگ نہیں آئیں گے۔خدمت کرنے والوں نے یہاں خدمتیں کیں، قربانی کرنے والوں نے یہاں قربانیاں کیں اور آج تک وہ لوگ یہاں موجود ہیں جنہوں نے ابتدائی احمدی مبلغ کی عظیم قربانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور گہرے