خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۹ 129 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۹۰ء اور اعلی تعلیم حاصل کی۔ان کے بیان کے مطابق وہ عیسائی تو ضرور ہیں لیکن عیسائیت کی بہت سی ایسی تعلیمات جو ان کے دماغ کو مطمئن نہیں کر سکتی تھیں اس کی وہ قائل نہیں رہیں۔جب میں نے اسلامی تعلیمات کے متعلق ان کو بتایا اور اسلام کے عمومی رحجانات کے متعلق بتایا تو حیرت انگیز طور پر متاثر ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ آج کا دن میرے لئے بڑا خوش قسمت دن ہے مجھے آج پہلی دفعہ اسلام کی سچی تعلیم کا علم حاصل ہوا ہے۔یہ ایک نمونے کا رد عمل ہے جو سب نے اسی طرح دکھایا۔ایک اور بڑی اہم تقریب Porto میں جو یہاں کا دوسرا بڑا اہم شہر ہے اور تجارتی لحاظ سے پہلا اہم شہر ہے۔وہاں کی سب سے زیادہ معز ز کلب جس کے دو ہزار ممبر ہیں ان کے پریذیڈنٹ نے پہلے ہمیں لنچ دیا۔پھر اس کے بعد رات کو ایک ڈنر دیا جس میں بہت شہر کے بڑے بڑے معززین اور اسٹنٹ گورنر بھی شامل ہوئے اور بہت ہی بارونق محفل رہی۔اس کے بعد مجھے کلب کے ہال میں تقریر کا موقع دیا گیا۔جس کا موضوع یہ تھا کہ اسلام انسان کے بنیادی حقوق کے متعلق کیا رائے رکھتا ہے“ چنانچہ میں نے مختلف پہلوؤں سے اسلام کی بنیادی حقوق کی تعلیم کا ذکر کیا تو اس کے بعد جو دوست ملے ہیں انہوں نے بہت ہی خوشی اور محبت کا اظہار کیا بلکہ ایک ممبر پارلیمنٹ Brito صاحب نے یہ اصرار کیا کہ انہیں اس کی کیسٹ مہیا کی جائے کیونکہ وہ اپنے دوستوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔تو یہ سارے امور ایسے ہیں جن پر ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں تھا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے اونچے طبقے تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے اور ان ذریعوں میں سے ہمیں بھی ایک ذریعہ بنا دیا۔ان ذریعوں میں جو مقامی طور پر احمدیوں کو خاص سعادت نصیب ہوئی ان میں مکرم کرم الہی صاحب ظفر کا خاندان حسب سابق اپنی سابقہ سپین کی روایات کے مطابق بہت مستعدی سے ہر پہلو سے ہر خدمت کے میدان میں صف اول میں رہا ہے اور ان کی ایک بیٹی طاہرہ بھی اپنی بڑی بہن کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے جنہوں نے سپین کی تقریبات میں غیر معمولی محنت کی تھی اسی شان کے ساتھ محنت کر کے جماعت احمدیہ کی تقریبات کو کامیاب کرانے میں ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے ایک تاریخی سعادت حاصل کی ہے۔پس ایک مبلغ نہیں بلکہ اس مبلغ کا سارا خاندان ہی مبلغ ہے۔اور جو مخلص احمدی یہاں ملے ہیں ان کے اندر میں نے یہ صلاحیتیں دیکھی ہیں کہ اگر انہیں با قاعدہ