خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد ۹ 128 خطبہ جمعہ ۱۹ مارچ ۱۹۹۰ء خدا تعالیٰ کے ہاتھوں میں اس کی انگلیوں کے درمیان چل رہا ہے۔چنانچہ یہاں آنے سے کچھ عرصہ قبل محض اتفاقا یوں لگ رہا تھا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ خدا کی تقدیر نے ایسا کام کروایا۔پرتگال کی پارلیمنٹ کے ایک ممبر سے کسی دوست نے تعارف کروایا۔وہ وہاں ہمارے ساتھ کھانے کے لئے بھی تشریف لائے اور تھوڑے عرصے میں ہی وہ اتنا گھل مل گئے اور احمدیت کی تعلیم سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے مجھ سے اس تمنا کا اظہار کیا کہ جب میں پرتگال آؤں تو ان کو بھی جماعت کی کچھ خدمت کا موقعہ ملے۔چنانچہ میری اطلاع پر جب مبلغ پرتگال نے ان سے رابطہ کیا تو یہاں کے انتظامات کے سلسلے میں انہوں نے غیر معمولی مستعدی کے ساتھ غیر معمولی طور پر نصرت کی اور جن باتوں کا وہم وگمان میں بھی نہیں تھا وہ ساری باتیں ان کی اس غیر معمولی محبت اور تعلق اور کوشش کے نتیجہ میں سرانجام پاگئیں۔تمام پارٹیوں کے اہم نمائندے ایک ایسی دعوت میں تشریف لائے جو (Foreign affairs) فارن افیئر ز کی ہاؤس کمیٹی کے چیئر مین نے دی اور یہ ایک بہت ہی اہم تقریب تھی۔جس میں یہاں کے فارن افیئر ز کی کمیٹی کے ممبران شریک ہوئے اور مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ دیا اور پھر اس کے بعد بعض سوالات کئے جن کے جواب دئے۔اس کے بعد ان کی طرف سے لنچ دیا گیا۔جس میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تمام پارٹیوں کے نمائندگان شامل تھے اور وائس پریذیڈنٹ بھی تھے اور اس فارن افیئر ز کمیٹی کے پریذیڈنٹ بھی تھے اور بعض سابق وزراء بھی تھے اور ان سے جب گفت و شنید ہوئی تو اندازہ ہوا کہ کس طرح اسلام کے لئے یہ جگہ پیاسی ہے اور اسلام کی تعلیم سے متاثر ہونے کے لئے بالکل تیار بیٹھی ہے۔میرے ساتھ جو معزز خاتون بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے تعارف کروایا کہ وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھیں لیکن چونکہ پریذیڈنٹ ان کو جانتا تھا ان کی قابلیت سے متاثر تھا اس لئے ان کو حکومت میں ایک لمبا عرصہ وزیر کے طور پر رہنے کا موقع ملا اور اب بھی بڑے اہم عہدے پر فائز تھیں اور انہوں نے باتوں باتوں میں جب اپنا تعارف کروایا تو پتا چلا کہ ایک Nun School میں امکانی طور پر ایک Nun بننے کے لئے وہ داخل ہوئی تھیں اور چونکہ عیسائیت کے متعلق وہ بے تکلف سوال کیا کرتی تھیں۔اس لئے وہ ایک پسندیدہ طالب علم نہ بنیں اور یہ کورس مکمل کرنے کے بعد وہ با قاعدہ یونیورسٹی میں داخل ہوئیں