خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد ۹ 124 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء سچائی کی غلام ہے جھوٹ کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔لیکن جن معنوں میں میں آپ پر بات واضح کر رہا ہوں اس کو غور سے سمجھ لیجئے تاکہ کہیں غلط دعوئی نہ کر بیٹھیں۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ احمدیت کے سوا اسلام کے دوسرے فرقوں میں سچائی نہیں ہے۔میں یہ کہ رہا ہوں کہ بہت سے ایسے اہم امور ہیں۔جن میں احمدیت کے سوا دوسرے فرقوں نے اسلام کی ایسی تصویر بنالی ہے جس کو آج کا دانشور آج کے زمانہ کی پیداوار جس نے سائنس کی روشنی میں آنکھیں کھولی ہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔بہت سی غلط کہانیوں کو اپنالیا گیا ہے اور ایمانیات میں داخل کر لیا گیا ہے۔پس اس پہلو سے احمدیت ہی ہے جو آج کی باشعور دنیا کو اسلام کی ایسی تعلیم دے سکتی ہے جس کے ساتھ جتنا غور کریں محبت بڑھتی چلی جائے گی۔اس پہلو سے مشرقی یورپ مغربی یورپ کے مقابل پر بہت زیادہ تیار ہے۔بہت سی ایسی وجوہات ہیں جن کے نتیجہ میں دونوں میں فرق ہے باوجود اس کے کہ وہ دہر یہ ہو چکا تھا! با وجود اس کے کہ مذھب سے بہت دور جا چکا تھا ان کے اندر ایک ذہنی صفائی بھی ہے اور دل کی تختیاں بہت سے ایسے تعصبات سے پاک ہو چکی ہیں جو عیسائیت کے عروج کے زمانہ میں موجود تھے۔پس اس پہلو سے مغربی یورپ کا اپنے دروازے احمدیت اور اسلام کیلئے کھولنا ایک بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہے اور حیرت انگیز اہمیت کا حامل واقعہ ہے اور اس واقعہ کا ہمارے جشن تشکر کے سال میں رونما ہونا۔یہ بھی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ ان باتوں پر غور کرتے ہوئے ساری جماعت جہاں اب خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرے گی کہ اس نے کس طرح غیب سے ہمارے لئے تقدیر میں جاری کی ہوئی تھیں جن کے دھاگے یہاں آکر اکٹھے ہوئے اور اچانک ہمیں ان تقدیروں کے مقاصد معلوم ہو گئے ہیں وہاں ان مقاصد کی پیروی کیلئے بھی اپنے آپ کو تیار کریں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد ہمیں ان بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کی باحسن توفیق عطا فرمائے۔خطبه ثانیه اب چونکہ موسم بدلنا ہے اور گرمیوں کے آثار آرہے ہیں اس لئے سردیوں کا یہ آخری جمعہ ہے جس میں جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کی جائے گی کیونکہ ذہنی طور پر آپ کو بتا دینا چاہئے اس لئے