خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد ۹ 122 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء کو دوبارہ امارتوں کے ساتھ مانوس کیا جائے اور تنظیم کے لحاظ سے اگر سو فیصدی ماتحت نہ بھی کیا جائے تو ان کے روابط ایسے ہو جائیں کہ امراء ان کو اپنا دست و باز وسمجھتے ہوئے ان سے بے تکلفی کے ساتھ اور اپنائیت کے ساتھ کام لیا کریں۔ایک امیر کا یہ حق ہے کہ ساری جماعت کو حکم دے اور اس حکم کے مقابل پر اگر خدام ، انصار یا لجنات نے اگر کوئی حکم دیا ہو تو وہ کوئی حیثیت نہیں رکھے گا خود بخود گر جائے گا۔پس اس طریق سے امیر حاوی تو ہے ہی لیکن میں اور رنگ میں بات کر رہا ہوں۔امیر کو اس سے پہلے یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ تنظیموں کو بحیثیت تنظیمیں کسی کام پر مامور کرے، لجنہ کو کہے کہ میں تمہارے سپرد یہ کام کرتا ہوں۔خدام کو کہے کہ میں تمہارے سپرد یہ کام کرتا ہوں علی ہذا القیاس۔لیکن خلیفہ وقت یہ کام کر سکتا۔ہے۔وہ تمام تنظیموں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ تم امیر سے رابطہ کرو اور اپنی خدمات پیش کر و او را میران خدمات سے استفادہ کرے صدر ان کو بلائے ان کے ساتھ میٹنگ رکھے اور ان سے کہے کہ تم میرے ساتھ مل بیٹھ کر اب اس کام کو مرتب کرو اور ایک ایسا لائحہ عمل بناؤ جس میں تینوں تنظیمیں اس رنگ میں کام کریں کہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنے والی ہوں یا تصادم نہ کرنے والی ہوں اور اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اس طرح کام کریں کہ تمام وہ میدان جس میں کام کرنا مقصود ہے ان میں کوئی خلاء باقی نہ رہیں بلکہ تمام میدان میں ہر پہلو سے کام شروع ہو جائے۔اس ہدایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام دنیا میں امراء کو چاہئے کہ وہ ذیلی تنظیموں سے رابطہ کریں اور ذیلی تنظیموں کو چاہئے کہ پہل کرتے ہوئے اپنی خدمات فوری طور پر امراء کے سپرد کریں اور ان سے کہیں کہ جولٹریچر جماعت احمدیہ نے گزشتہ چند سالوں میں مختلف زبانوں میں شائع کیا ہے، اس لٹریچر کی تقسیم کے سلسلے میں آپ جس قسم کا پروگرام ہمارے لئے بناتے ہیں ہم اس پر پوری طرح بشاشت کے ساتھ اور پوری تندہی کے ساتھ عمل کریں گے اور پھر اس کی رپورٹیں ذیلی تنظیموں کی طرف سے مجھے ملنی شروع ہوں جس کی نقل امیر کو آئے اور باقی باتوں میں وہ اسی طرح پہلے کی طرح کام کرتے رہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر میں بہت سے باہر بسنے والے روسیوں کے ساتھ یا مشرقی جرمنوں کے ساتھ ، چیکوسلواکین کے ساتھ یا دوسری قوموں کے ساتھ ہمارے روابط پیدا ہو جائیں گے اور اب تک جو ہوئے ہیں وہ بہت ہی امید افزاء ہیں۔