خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۹ 121 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء احمدیت کا پیغام پہنچتا ہے وہاں مشرقی یورپ کی قومیں فوراً متوجہ ہوتی ہیں اور جب ان کو فرق معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا آرتھوڈاکس (Ortho Dox) اسلام سے یعنی وہ اسلام جو ازمنہ وسطی سے تعلق رکھتا ہے، کیا فرق ہے تو ان کی دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔تو جرمنی میں تو رابطے ہورہے ہیں۔باقی دنیا میں بھی روسی اور دیگر مشرقی دنیا کے لوگ موجود ہیں۔ان سے جو احمدی بھی اپنے رابطے قائم کر سکتا ہے اور بڑھا سکتا ہے اور پھر ذاتی تعلقات اور حسن و احسان کے ذریعے ان پر نیک اثر قائم کر سکتا ہے،اس کو ضرور کرنا چاہئے اور اس ضمن میں اگر لٹریچر چاہئے تو دنیا کی ہر جماعت میں ایسا لٹریچر موجود ہے اور اگر نہیں تو ان کا کام ہے کہ مرکز سے رابطہ کر کے وہ لٹریچر حاصل کریں۔اس سلسلے میں آخری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کو اس کام میں خصوصیت کے ساتھ دلچسپی لینی چاہئے۔میں نے اپنے ایک گزشتہ خطبے میں یہ بتایا تھا کہ ہم نے جو لٹریچر شائع کیا ہے وہ الماریوں یا صندوقوں کی زینت بنانے کے لئے نہیں بلکہ تقسیم کے لئے کیا ہے اور ساری دنیا کی جماعتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ جائزہ لیں کہ ان کے ملکوں میں کون کون سی غیر قومیں آباد ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں کئی ملکوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی رپورٹیں مل رہی ہیں اور بہت سے امراء بڑی توجہ کے ساتھ اس ہدایت کی تعمیل میں جائزے لے کر پھر مجھے رپورٹیں بھجوا رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر امراء اس خصوصی کام کو یعنی مشرقی یورپ کی قوموں سے تعلق قائم کرنا اور ان میں احمدیہ لٹریچر تقسیم کرنا ، اس کام کو اگر وہ ذیلی تنظیموں سے لیں تو ان کو بھی سہولت ہو جائے گی اور ذیلی تنظیمیں غالباً بہتر رنگ میں یہ کام کر سکیں گی۔ایک امیر کے لئے کام لینے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جماعت کو عمومی ہدایت دے دے اور اس شعبے کے سیکرٹری کو مقرر کر دے کہ تم ان سے رابطے کرو۔اس طریق پر سب کام چلتے ہیں لیکن ان کاموں میں ذرا نرمی پائی جاتی ہے۔رفتار ذرا کم ہوتی ہے اور جسے انگریزی میں Casual کہا جاتا ہے۔آرام آرام سے لوگ بات کو لیتے ہیں اور اتنی زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتے بعض دیتے بھی ہیں لیکن بالعموم کچھ لوگوں کو تو فیق مل جاتی ہے لیکن ذیلی تنظیموں کے سپر داگر خصوصی کام کیا جائے تو نسبتاً زیادہ افراد زیادہ ذمہ داری کے ساتھ اور مہم کی صورت میں کام کرتے ہیں۔نئی تبدیلیاں جو ذیلی تنظیموں میں کی گئی ہیں ان میں ایک یہ بھی مقصد تھا کہ اس سے پہلے جو بعض مصلحتوں کی وجہ سے امارتوں سے ذیلی تنظیموں کو بالکل الگ کر دیا گیا تھا، ان