خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 115

خطبات طاہر جلد ۹ 115 خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء جماعت کو بار بارتحریک بھی کی ان دنوں میں یعنی انقلاب روس کے بعد شروع کے دس پندرہ سال تک باہر کی دنیا کے لئے روس کے علاقے میں داخل ہونا بہت ہی مشکل تھا۔بعد ازاں سہولتیں پیدا ہوئیں لیکن پابندیاں بھی جاری رہیں ان دنوں میں تو بہت ہی مشکل کام تھا اور خطر ناک کام تھا اس لئے با قاعدہ جماعت کی طرف سے مبلغ تو وہاں بھجوایا نہیں جاسکتا تھا یعنی اجازت لے کر اور ویزا حاصل کر کے لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو یہ توجہ دلائی کہ کچھ ایسے لوگ نکلیں جو روس تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس راہ میں قربانیاں دیں۔اس سلسلے میں جو اہم کردار حضرت مولوی ظہور حسین صاحب نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ادا کیا وہ تاریخ میں دہرانی چاہتا ہوں تا کہ روس کے تعلق میں ابتدائی خدمت کے وہ واقعات بھی آپ کے سامنے آجائیں اور اس مجاہد اول مولوی ظہور حسین صاحب کے لئے اور ان کے لئے جوان کے ساتھ شامل ہوئے تھے دعا کی بھی تحریک ہو۔انہوں نے روس سے واپس آنے کے بعد کچھ عرصہ تو ایسی حالت میں گزارا کہ ان کو اپنے دماغ پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔اتنا شدید ان کو وہاں عذاب دیا گیا ایسی ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اس کے نتیجے میں وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔جب ان کو ترکی کی سرحد سے پار باہر پھینک دیا گیا تو اتفاق سے کسی نے انداز ہ لگا کر کہ یہ ہندوستانی ہے، ان کو British Embassy میں پہنچا دیا اور چونکہ وہ پاگل پن کی حالت میں بھی ” قادیان قادیان“ بار بار کہتے تھے اس لئے کسی برٹش آفیسر کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ ہندوستان کے شہر قادیان کا رہنے والا ہے۔چنانچہ انہوں نے جماعت سے تعلق قائم کیا اور پھر ان کو وہاں بھجوا دیا گیا۔یہ وقتی دور جو بدحواسی کا تھا یہ زیادہ لمبا عرصہ نہیں چلا لیکن وہ جو تعذیب کے نشانات تھے وہ ساری عمر بدن پر قائم رہے اور جو ہم نے بھی بچپن میں بار ہاوہ دیکھے۔سارے جسم پر جھلنے کے اور تکلیفوں کے آثار باقی رہے تھے۔مولوی ظہور حسین صاحب نے بعد میں ایک بہت لمبا عرصہ جماعت احمدیہ کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی اور ایک کتاب ” آپ بیتی“ کے نام سے شائع کی جس میں مختصر اروس کے واقعات کا ذکر ہے۔اس کتاب سے پتا چلتا ہے کہ جولائی ۱۹۲۴ء میں آپ دو دیگر مبلغین محمد امین خاں صاحب اور صاحبزادہ عبدالمجید صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ روس کے سفر پر روانہ ہوئے۔عبدالمجید صاحب کو تو رستے میں ایران میں ٹھہر جانا تھا کیونکہ وہ