خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد ۹ 112 خطبہ جمعہ ۱۶ار فروری ۱۹۹۰ء میں، آپ کے کسی عزیز میں یہ بغاوت اپناز ور مار چکی ہوتی ہے اور وہ اپنا سر اٹھا لیتا ہے پھر وہ وقت نہیں ہے کہ آپ اس کو سنبھال سکیں۔پھر رونے اور حسرت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ہاں دعا کے ذریعہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے۔اور دعا کے ذریعے ہر طغیانی پر بھی فتح پائی جاسکتی ہے۔دیکھیں حضرت نوح بھی تو اسی طغیانی کا شکار تھے۔لیکن کس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کو اس طغیانی پر فتح عطا فرما دی۔پس یہ ایک الگ مضمون ہے لیکن عام حالات میں انسان، جب سرکشی نی انتہا کو پہنچے تو پھر انسان بے بس ہو جایا کرتا ہے۔اس لئے آپ خصوصاً وہ لوگ جو مغربی ممالک میں رہتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو آج کل بد قسمتی سے تیسری دنیا کے ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں نام کی مذہبی قدریں رہ گئی ہیں لیکن ہر لحاظ سے ہر بدی زور مار چکی ہے ان کو چاہئے کہ اپنی اولا د کو، اپنے گردو پیش کو ، اپنے ماحول کو ، اپنے عزیزوں کو ہمیشہ باریک نظر سے دیکھیں اور آثار جب پیدا ہور ہے ہوں اس وقت ان آثار سے نپٹنے کے سامان کریں۔ان آثار سے نپٹنے کے سامان میں دعا بھی شامل ہے اور اس وقت کی دعا زیادہ موثر ہوگی۔پھر دوسرے ذرائع دعا کے لئے لکھنا، جماعت کے نظام سے تعلق جوڑنا اور ہر قسم کی کوششیں کرنا جب کہ ابھی بیماری سراٹھا رہی ہے۔جب کینسر بن چکی ہو جب اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہو تو پھر کچھ پیش نہیں جاسکتی۔چنانچہ کینسر بھی دراصل اس الطَّاغیة کی ایک شکل ہے۔وہ بیماری جو بے قابو ہو جائے جو سرکش ہو جائے۔جو نظام کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔پس جماعتوں میں بھی جہاں جہاں ایسے لوگ پیدا ہوں جو ایسے وسوسے پھونکتے ہیں جو بالآخر نظام کے خلاف بغاوت پر منتج ہوتے ہیں ان کی بھی نگرانی کریں اور وقت پر انہیں سمجھا ئیں۔معمولی کوششوں سے بھی ابتدا میں چیزوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔پس عبرت بھی ہے جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے اور ساری دنیا کی جماعت کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کبھی بھی جماعت احمدیہ کو اس انجام تک نہ پہنچائے کہ اس کے نفس کی الطَّاغية اس پر قابو پالے اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے قدرت اس سے بیرونی الطَّاغِيَةِ کے ذریعے انتقام لے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں راہ راست پر قائم رکھے اور وہ تو ازن اختیار کرنے کی توفیق بخشے جو اسلامی تعلیمات کی روح ہے۔آمین۔