خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد ۹ 105 خطبه جمعه ۱۶ار فروری ۱۹۹۰ء جلدی لاہور پہنچنا تھا اور وہاں ہوائی جہاز کے ٹکٹ بھی نہیں ملتے جب تک یا پہلے تعلقات نہ ہوں یا بہت پہلے سے نہ خریدے گئے ہوں یا آپ غیر معمولی زیادہ قیمت ادا نہ کر دیں۔اور گاڑی کا یہ حال ہے وہ ٹکٹ جو ایک سو بیس روپے کا مہیا ہوتا تھا ، انہوں نے کہا کہ جب میں نے کوشش کی کہ مجھے کسی ذریعہ سے مل جائے تو مجھے صاف انکار ہو گیا کہ سارے ٹکٹ بک چکے ہیں۔کوئی گنجائش نہیں پھر مجھے کسی نے کہا کہ بے وقوف نہ بنوقلی ٹکٹ بیچتے ہیں۔آپ چھ سات سور و پید ان کو دیں تو آپ کو ٹکٹ مل جائیں گے تو بجائے اس کے کھڑکیوں پر ٹکٹ مل رہے ہوں وہاں اسٹیشن کے قلی ٹکٹ بیچتے پھرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ ایک سو بیس روپیہ کا ٹکٹ غالبا ایک سو میں کا ہی بتایا تھا، وہ ساڑھے چھ سوروپے میں میں نے مجبور خریدا۔تو جس قوم کا یہ حال ہو چکا ہو ظاہر بات ہے کہ اس کا ایک ہی نتیجہ ذہن میں آتا ہے کہ یہ قوم اپنی سب حدیں پھلانگ چکی ہے۔اتنے رخنے ان میں پڑ چکے ہیں کہ دن بدن اور زیادہ پھٹتے چلے جارہے ہیں۔بعض دفعہ رخنے پڑنے کی تصویر اتنی تیزی سے بنتی ہے کہ آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی پھر اس کو Slowmotion میں دکھانا پڑتا ہے۔بعض دفعہ اتنی آہستہ بن رہی ہوتی ہے یا اتنے وسیع پیمانے پر بن رہی ہوتی ہے کہ بیک وقت آنکھ اس کا اندازہ نہیں کر سکتی۔پھر اس کو تیزی کے ساتھ اکٹھا کر کے دکھانا پڑتا ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا شاید کہ بعض دفعہ گولی لگنے سے جو شیشے پھٹتے ہیں ان کو معلوم کرنے کے لئے کہ کس طرح پھٹے تھے، بہت ہی آہستہ رفتار کے ساتھ اس تصویر کو دہراتے ہیں پھر انسان کو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت گولی لگی تو پہلی درزیں کہاں کہاں پڑی تھیں، پھر کیا رخنے ظاہر ہوئے ، پھر کس طرح شیشہ پھٹنا شروع ہوا کیونکہ بہت تیزی سے واقعہ ہو رہا ہے۔اس کو آہستہ کر کے دکھانا پڑتا ہے۔پاکستان کا اس وقت یہ حال ہو چکا ہے کہ یہاں تیزی سے بھی ہو رہا ہے اور اتنے وسیع پیمانے پر بھی ہو رہا ہے کہ نظر چندھیا جاتی ہے اس کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہر سطح پر رخنے پڑچکے ہیں اور مزید پڑتے چلے جارہے ہیں اور اس قوم کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ہم سے یہ کیوں ہو رہا ہے ان کی تاریخ میں جو قریب کی تاریخ ہے، جو سب سے بڑا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا گیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار تھا اور قومی سطح پر انکار تھا۔ایک ایسا انکار جس کے متعلق آج تک علماء کہتے چلے جاتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ طاغوت کا انکار تھا اور توحید سے وابستہ ہونے کے لئے امت کو ایک کرنے کے لئے