خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 101
خطبات طاہر جلد ۹ 101 خطبه جمعه ۱۶ار فروری ۱۹۹۰ء کا حال یہ ہوگا کہ گویا اس نے ایک مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈال دیا ہے نہ وہ ہاتھ چھوٹنے والا ہے۔نہ وہ کڑا ٹوٹنے والا ہے اور پھر اس سے اس کی جدائی کبھی نہیں ہوگی۔یہ جو موحد کے لئے عظیم الشان خوشخبری ہے اس کا آغاز طاغوت کے انکار سے ہوتا ہے۔اگر طاغوت کا کوئی پہلو باقی رہ جائے تو پھر اس نیک انجام کی کامل یقین کے ساتھ خوشخبری نہیں دی جاسکتی۔یہ خوشخبری اپنی ذات میں یہ پیغام رکھتی ہے کہ اگر تم طاغوت کا انکار کر کے پھر خدا پر ایمان لائے ہو تو یہ اس کا لازمی نتیجہ ہوگا اور اگر تمہارے طاغوت کے انکار میں کوئی کمی رہ گئی کوئی رخنے رہ گئے تو پھر اسی پہلو سے تمہارے انجام کے او پر بھی خطرات کے سائے پڑ سکتے ہیں۔طاغوت کا لفظ توجہ طلب ہے۔طاغوت کا لفظ جس مادے سے بنا ہے اس میں سرکشی ، حد سے بڑھ جانا، ظلم، تعدی، یہ ساری باتیں شامل ہیں اور طاغوت کا لفظ واحد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور جمع کے لئے بھی اس لئے اس میں ہر قسم کی شیطانی طاقتیں شامل ہو جاتی ہیں اور جس طرح کا الہ میں جمع کے معنی شامل ہیں بلکہ کلیہ ہر قسم کے خدا کا انکار لازم قرار دیا گیا ہے۔سوائے اللہ تعالیٰ کے۔اسی طرح طاغوت نے بھی ہر قسم کی ان شیطانی طاقتوں کو ، ان شیطانی تحریکات کرنے والے وجودوں کو شامل کر لیا جو امکانی طور پر ہو سکتے ہیں یعنی عالم امکان میں جن کا وجود ممکن ہے اور وہ سارے اس میں شامل ہو گئے۔تو یہاں بھی انکار جمع کا ہے اور اقرار صرف اللہ کا۔تو وہ کون سی طاغوتی طاقتیں ہیں جن کا انکار ہے؟ اس کا مضمون اس لفظ کے معنی میں شامل ہے۔ہر وہ شخص ، ہر وہ دوست، ہر وہ دشمن، ہر وہ فلسفی ، ہر وہ ذات ، وہ تصور جو انسان کے دل میں کسی قسم کی کجی پیدا کرے، اسے سرکشی پر آمادہ کرے، اسے حد سے تجاوز کرنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے، صراط مستقیم سے ہٹا کر کجی کی طرف لے جائے، ہر ایسی طاقت کو طاغوت کہتے ہیں۔پس طاغوت کا انکار بہت ہی اہم ہے اور جب تک طاغوت کا انکار نہ ہو، اللہ کے ایمان کے تمام مثبت نتائج ظاہر نہیں ہو سکتے۔اسی حد تک وہ مثبت نتائج خام رہ جائیں گے ان میں کوئی نہ کوئی خلا رہ جائے گا کوئی کمی باقی رہ جائے گی جس حد تک انسان کا تعلق کسی طاغوت سے باقی رہے گا۔اس مضمون کو جماعت احمدیہ کے لئے بہت گہرائی میں سمجھنا ضروری ہے اور ہر قسم کے طاغوتی خیالات کو دل سے مٹانا، ہر ایسے شخص سے تعلق توڑنا جو قومی وحدت کے خلاف کسی قسم کے