خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد ۹ 492 خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء جب دولتیں ان کے بینکوں میں جمع کرائی جاتی ہیں تو کیا حق ہے ان کا کہ کسی دشمنی کے وقت بھی ان کی دولت کے اوپر ہاتھ رکھ دیں اور کہیں کہ اس کو ہم بنی نوع انسان کے فائدے میں سیل (Seal) کر رہے ہیں، سر بمہر کر رہے ہیں۔کتنے ہی مشرقی ممالک ہیں جن کی دولتیں اس طرح ہر لڑائی اور ہر خطرے کے وقت سر بمہر کر دی گئیں اور اب بھی کویت کی دولت سر بمہر کی گئی لیکن وہ ان کو بعد میں ان کی دوستی کی وجہ سے چھوڑ دینے کی نیت سے اور عراق کا سارا سرمایہ جو غیر ملکوں میں تھا، اسے سر بمہر کر دیا گیا ، تو یہ دجل کی باریکیاں ہیں لیکن ان تمام چالا کیوں کو اور ان تمام ظلموں کو یہ ایک نہایت نفیس Civilize زبان میں پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔اس کے مقابل پر ہر دفعہ بد نصیب عرب مسلمان دنیا نے ہوش کا جوش سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر دفعہ جوش کو ہوش سے ٹکرا کر جوش کو پارہ پارہ کروایا ہے اور مسلمان دنیا کو مزید ذلیل و رسوا کروایا ہے۔سب سے بڑی غلطی عرب دنیا نے یہ کی اور ہمیشہ کرتی چلی گئی کہ یہ سیاسی محرکات اور یہ دنیاوی معاملات جن میں خود غرض قوموں کا رد عمل مذہب کی تفریق کے بغیر ہمیشہ ایک ہی ہوا کرتا ہے۔ان محرکات کو ان کے مواضع پر جہاں یہ واقع ہیں، ان تک رکھنے کی بجائے ان کو مذہب میں تبدیل کر دیا گیا اور جو نفرت پیدا کی گئی وہ اسلام کے نام پر پیدا کی گئی ان قوموں کا جن قوموں نے آپ کے مفادات پر حملہ کیا ہے۔مقابلہ کرنے کا انسانیت آپ کو حق دیتی ہے۔اس کو بلا وجہ اسلامی جہاد میں تبدیل کر کے ان کو اور موقع دیا گیا کہ پہلے تو یہ صرف اسلامی دنیا پر حملہ کرتے تھے اب وہ اسلام پر بھی حملہ کر یں اور تمام بنی نوع انسان کو کہیں کہ اصل بیماری اسلام ہے۔اسرائیلیت نہیں ہے ہماری نا انصافیاں نہیں ہیں بلکہ اسلام ایک سج مذہب ہے جو بھی پیدا کرتا ہے۔ایک غیر منصفانہ مذہب ہے جو غیر منصفانہ خیالات کو فروغ دیتا ہے اور ساری بیماریاں اسلامی طرز فکر میں ہیں۔چنانچہ ایران کے رد عمل میں بھی جو غیر اسلامی رد عمل تھا اور جس کا اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں تھا لیکن دنیاوی اصول کے مطابق اگر اس کو پیش کیا جاتا تو بہت حد تک دنیا کو مطمئن کروایا جا سکتا تھا کہ ہم مظلوم رہے ہیں۔اب ہمارا وقت ہے انتقام لینے کا، ہم مجبور ہیں دنیا کسی حد تک اس کو سمجھ سکتی تھی لیکن اسلامی دنیا کی لیڈرشپ کی جہالت کی حد ہے کہ قول سدید کی بجائے ، دنیا کوصاف بات بتانے کی بجائے کہ ہم مجبور ہیں ہم بے اختیار ہیں۔جب بھی ہمیں موقعہ ملے گا، انہوں