خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 456
خطبات طاہر جلد ۹ 456 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء دین خدا کے لئے خالص کر چکا ہوں یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔پس ایک پہلو سے مخلصین کہہ کر اندرونی کیفیت کو بیان فرما دیا گیا دوسرے پہلو سے اس اندرونی کیفیت کی پہچان کی کسوٹی ہمیں عطا کر دی گئی کہ ہزاروں دعویدار ہوں گے جو کہیں گے ہم دین کو اللہ کے لئے مخلص کرنے والے ہیں۔تم ان کو پہچان سکتے ہو یہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں کہ تم سچ بول رہے ہو روز مرہ کی زندگی میں ان کے اعمال خود بتاتے چلے جائیں گے کہ وہ اپنے اس دعوی میں بچے ہیں یا جھوٹے ہیں کیونکہ حنفاء ہونے کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہو گا جو دکھائی دینے والا ہوگا۔جہاں بھی دورا ہے آئیں گے جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرنی ہوگی۔جھوٹ کی پناہ لینی ہے کہ سچ کی پناہ لینی ہے۔ایسے موقعوں کے اوپر ان کا فیصلہ خود بتا دے گا کہ وہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء تھے یا نہیں تھے۔پس جماعت احمدیہ کو اس بار یک نظر سے اپنی نیتوں کا حساب اپنے آپ سے لیتے رہنا چاہئے اور روز مرہ کی زندگی میں یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ جب بھی فیصلے کرتے ہیں وہ ”حنیف“ کے فیصلے کرتے ہیں یا ”حنیف کے فیصلے کرتے ہیں۔ان کی کون سی شخصیت ابھرتی ہے۔اگر ان کے فیصلوں میں جف کا عنصر غالب ہے تو پھر دنیا کی ملونی غالب ہوگئی اور اگر حنف کا عنصر غالب ہے تو دین کی ملونی غالب ہو گئی اور اس کے بعد پھر جہاں غلبہ ہو وہاں خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ غلبے والے حصے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے اور کم تر حصے کو دور کرتا چلا جاتا ہے۔اس لئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہرگز مراد یہ نہیں کہ ہر انسان جب وہ حنیف بنتا ہے تو اچانک مکمل حنیف بن جاتا ہے اور دنیا کی ملونی کا نشان تک باقی نہیں رہتا۔یہ سلوک کا ایک رستہ ہے جس پر چلتے ہوئے رفتہ رفتہ اگلی منازل تک انسان کی رسائی ہوتی ہے لیکن آغاز ہی سے یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کا انجام کہاں ہوگا۔اگر اس کے روز مرہ کے فیصلوں میں حنف کا عصر غالب ہو، یعنی خدا کی طرف جھکنے کا عنصر غالب ہو، پھر بعض فیصلوں میں ٹھو کر بھی کھا چکا ہو اور بعض باتوں میں اس نے دنیا کو بھی ترجیح دی ہو تو جہاں تک میرا قرآن کریم کا مطالعہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لئے بچنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اس کی مغفرت اس کی ہر دوسری صفت پر غالب ہے اس لئے وہ شخص جو بالعموم خدا کی طرف جھکنے والا ہو، اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ اس کی نیکی کے دائرے