خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد ۸ خطبه جمعه ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء ضرورت پڑتی ہے۔وہ وقت ہے نئی فصل بونے کا اور انتہائی ضرورت کے وقت جو دانے اُس کے گھر بچتے ہیں اُن کو وہ مٹی میں ملا دیتا ہے۔یہ ہے قبض کا مضمون اور کامل یقین رکھتا ہے کہ اس کے بغیر اُس کے آئندہ سال کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔کامل یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو قبض کرتا ہے وہ بسط بھی کرتا ہے اور بسط کے مضمون پر یقین رکھے بغیر کوئی زمیندار بھی اپنا قیمتی بیج مٹی میں نہیں ملا سکتا۔اور آپ دیکھتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے اُس وقت سے خدا تعالیٰ اسی مضمون کو ہر سال مختلف شکلوں میں عملی صورت میں دنیا پر ظاہر کرتا چلا جارہا ہے۔انسان تو بالا رادہ اپنے پیج کومٹی میں ملاتا ہے لیکن اُس سے پہلے ارب ہا ارب سال سے جب سے نباتات پیدا ہوئی ہے یہی مضمون ہے جو روکشائی کر رہا ہے جو ایک چلتی ہوئی فلم کی طرح ہر سال سینکڑوں ، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں صورتوں میں ظاہر ہوتا چلا جارہا ہے۔درخت جب پھلوں سے بھر جاتے ہیں تو پھر وہ اپنے پھلوں کو مٹی میں ملا دیتے ہیں ، ہوائیں اُن کو بکھیر دیتی ہیں اور بظاہر سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے لیکن اُنہی دانوں سے پھر اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور درخت اگتے ہیں اور سارا نظام کائنات اسی طرح جاری و ساری ہے۔تو جب خدا تعالیٰ نے کائنات کو اس طرح بنایا اور اسی اصول اور اسی مضمون پر کائنات میں ارتقاء اختیار کیا ہے اور مجموعی طور پر انسان کی دولت یا حیوانات کی دولت بڑھتی چلی گئی ہے کم نہیں ہوئی تو کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ روحانی نظام میں اس آزمودہ نسخے کو بھلا دے یارڈ فرما دے۔پس روحانی دنیا میں بھی جو مالی قربانی کے مطالبے ہیں وہ دراصل اُسی خدا کے مطالبے ہیں جس نے آپ کو دنیا میں مٹی میں پیج ما نا اور پھر فصلیں کاٹنے کا گر سکھایا ہے۔فرمایا وَ اللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْضُطُ تم کیوں نہیں دیکھتے اس بات کو کہ خدا تعالیٰ نے یہ قانون جاری فرمایا ہوا ہے کہ جو لوگ اپنا ماحصل، اپنی دولت کو خدا کے سپرد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُسے بڑھا کر واپس کیا کرتا ہے۔فرمایا کہ جس کے لئے وہ چاہتا ہے اُس کو بہت بڑھا کر عطا فرتا ہے۔وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور اُسی کی طرف تم لوٹ کر جانے والے ہو۔وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ کا مطلب ہے اُس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہو اس کا پہلے مضمون کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس کا پہلے مضمون سے دو طرح کا تعلق ہے۔اوّل یہ کہ ہم سب کچھ اپنا جو خدا کی کائنات کو واپس کرتے ہیں یا ہم سے واپس کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوا کرتا بلکہ دوبارہ نئی صورتوں میں اُٹھتا ہے۔نئی صورتوں میں نکلتا ہے۔تو فرمایا تم بھی جومٹی میں ملائے جاؤ گئے