خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 881
۳۷۴ ۴۷۷ ۵۶۱ ۶۷۹ ٦٨٦ ۷۲۴ ۵۰ ۲۲۶ ۵۱۶ ۶۷۸ ۸۳۱ ۶۹۲ ۱۹ ۲۱ ۸۹ ۴۲۴ ۱۲۸ ۱۲۰ ۷۰۱،۲۱۳ ۶۳۷ ۲۷۷ ۲۲ اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار حق پر نثار ہو دیں مولی کے یار ہوویں ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی عدو جب بڑھ گیا شور وفغاں میں ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی ۳۲ ۶۵۴۶۴۸ ،۲۲۱ ۶۴۷ ۶۴۸ ۶۴۶ ۷۸۱ سخت زبان استعمال کرنے کی وجوہات آپ پر سخت کلامی کے الزامات آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام پر حملوں کا دفاع فرمایا آپ کی تحریروں پر اعتراضات آپ کا اردو زبان میں لڑ پچر نئی نسل کو آپ کے کلام سے روشناس کروانا ضروری ہے ۶۶۱، ۶۶۸ ایک عالم مر گیا تیرے پانی کے بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مجادلہ آپ کے ذریعہ ایمان ثریا سے زمین پر آنا غیروں سے مناظرے اور مباہلے عیسائی پادریوں کی شدید مخالفت آپ کے دعوئی سے عیسائی مخالف ہو گئے ہندوؤں نے بڑی شدت سے آپ کی مخالفت کی اس ایک آواز کے مقابل پر شدید مخالفت کی لہریں اٹھیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے دائرے سے باہر نکلنے ۸۱۳۰۸۱۲ ۶۲۷ ۶۴۶ ۶۳۸ ۶۳۸ ۶۳۶ ۶۳۳ ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے فارسی منظوم کلام من نه آنستم که بروز جنگ بینی پشت من کا فر کنند دعوی حب پیمبرم و آنچه می خواهم از تو توئی اگر خواهی دلیل عاشقش باش امروز قوم من نه شناسد مقام من اے دل تو نیز خاطر ایں ناں نگاہ دار صاحبزادہ مرزاغلام احمد صاحب ایم اے غناء تعلق باللہ سے پیدا ہونے والی بچی غناء غناء کا ایک غلط مطلب اور اس کی وضاحت واقفین نو میں غناء پیدا کرنے کی ضرورت ف فائدہ مند فائدہ مند چیزوں کو دوام حاصل ہوتا ہے ۶۳۳ ۶۳۴ ۶۳۴ ١٠٧ ۶۷۰ ۸۶۶ ۵۰۲ 19 فتوی مصر سے بلا شیمی پر کسی کو قتل نہ کرنے کا فتوی امام خمینی کارشدی کے قتل کا فتوی مجھی جزائر ایک سکھ مذہبی راہنما سے ملاقات فرار الی الله فرار الی اللہ کی وضاحت و تلقین ایک مومن کا فرار الی اللہ ۱۸ ۷۳ ۷۵ ۱۸۷ ۲۰۵ ۲۷۷ ۴۴۰ نہ دیا جائے گا جان فدا کرنے والے دوست جان کے دشمن بن گئے آپ کو اپنے مخالفت کے دور کے وقت کسی قسم کی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑا معاندین اور مخالفین کے نام پیغام مصلح اشتعال انگیزی پر صبر کی تلقین میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں آپ کی رویاء کا ذکر ارد و منظوم کلام بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار دل ہمارے ساتھ ہیں گومنہ کریں بک بک ہزار اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا جس کی فطرت نیک ہو گی آئے گا وہ انجام کار نہاں ہم ہو گئے یا ر نہاں میں قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت