خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد ۸ 82 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء کے سلسلے میں میرے ذہن میں آئیں گے میں آپ کے سامنے رکھوں گا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ جو باتیں میں نے آپ سے کہ سے کہی ہیں ان پر گہری سنجیدگی ، خلوص کے ساتھ کے ساتھ عمل شروع کر دیں گے۔ آخری بات پھر وہی کہ دعا سے غافل نہ ہوں ۔ ہمارے سارے کام دعا سے بنتے ہیں ورنہ ہم بہت ہی کمزور، بہت ہی حقیر، بہت ہی نا طاقت اور بے حیثیت لوگ ہیں ۔ دعا ہی ہے جس نے ہماری حیثیت بنانی ہے۔ ہمیں زمین سے آسمان پر اٹھا دینا ہے۔ غالب کہا کرتا تھا کہ شاہ کا مصاحب ہونے کی وجہ سے میری قدر ہو رہی ہے وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے ( دیوان غالب صفحه : ۲۷۹) تو آپ ہیں کون ، ہم کون ہیں ، ہماری اگر آبرو ہے تو خدا سے تعلق کی وجہ سے آبرو ہے۔ اس تعلق کو بڑھائیں تو ساری دنیا میں آبرو ہوگی ورنہ ہماری کوئی بھی حیثیت اور کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔