خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 81

خطبات طاہر جلد ۸ 81 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء لوگ ہیں۔غلطی خوردہ ہیں تو یہ الگ بات ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ لوگ بد اور شریر ہیں نعوذ بالله مــن ذالك يہ بالکل درست نہیں ہے نا جائز بات ہے۔اس لئے ایسا اچھا انسانی مواد اور ایسا قیمتی انسانی مواد ہمارے سامنے پڑا ہوا ہے جس تک ابھی تک ہمیں دسترس نہیں ہوئی۔اس لئے جہاں جہاں بھی احمدی موجود ہیں وہ عربوں سے اپنے تعلقات کو بڑھائیں۔اُن میں سے بعض بڑے جلدی مشتعل ہونے والے بھی ہوں گے یہ بھی میں مانتا ہوں لیکن خالصہ اس لئے کہ لوگوں نے اُن کے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں لیکن جماعت کی طرف سے اب بہت سا ایسا لٹریچر شائع ہو چکا ہے عربی زبان میں پیسٹس تیار ہیں، ویڈیوز ہیں۔ایک رسالہ التقویٰ جاری ہوا ہوا ہے کہ ان سب وسائل کو اگر جماعت استعمال کرے تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت تیزی کے ساتھ عربوں کے اندر حیرت انگیز انقلاب بر پا ہوگا۔جہاں جہاں جماعت نے رابطہ کیا ہے وہاں نیک نتیجے نکل رہے ہیں۔اس لئے یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے اگر میں ویسے جائزہ لے کر ایک نتیجہ نکالتا وہ بھی وہی یہی ہوتا۔لیکن میرے تجربے کا جائزہ بھی یہی بتا رہا ہے کہ یہ جو نتیجہ ہے یہ حقیقی ہے۔اس لئے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ عربوں کے ساتھ اپنی محبت کے تعلقات قائم کریں۔تبلیغ کے لئے ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ملتے ہی پیغام رسانی شروع کر دی جائے۔قرآن کریم فرماتا ہے حکمت سے کام لو۔عرب قوم میں جو خو بیاں ہیں اُن خوبیوں کی راہ سے آپ ان میں داخل ہوں۔بڑے سخی لوگ ہیں ، بہت مہمان نواز ہیں اور اُسی طرح سخاوت کی قدر کرنے والے اور مہمان نوازی کی قدر کرنے والے ہیں۔امیر سے امیر آدمی کو اگر غریب آدمی بھی ایک پیالی چائے کی محبت سے پیش کرے تو یہ اُس کے سامنے ہمیشہ احسان مندی کا اظہار کرتے رہیں گے۔بہت جلدی دل جیتے جا سکتے ہیں۔تو ان سے پہلے پیار اور محبت کا تعلق قائم کریں کیونکہ جب تک پیار اور محبت کا تعلق قائم نہیں ہوگا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے پیغام کونفرت کی نگاہ سے جانچنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور وہ نگاہ ہمیشہ غلط نتیجہ نکالتی ہے۔اس لئے اب ایک پہلی مہم کے طور پر دعا اور دوسری مہم کے طور پر عربوں سے وسیع تعلقات قائم کرنے اور تیسری مہم کے طور پر جماعت نے اب تک جو عربوں کے لئے لٹریچر تیار کیا ہے یا دوسرے ذرائع اختیار کر رہی ہے اُن سب سے استفادے کی کوشش کریں۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ اور بھی جو امور خاص طور پر اگلی صدی سے پہلے تیاری