خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد ۸ 847 خطبه جمعه ۲۹/دسمبر ۱۹۸۹ء تھی۔باوجود اس کے بعض ممالک نے وعدے کے مطابق ادا ئیگی نہیں کی پھر بھی وصولی وعدے سے کچھ بڑھ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض ممالک نے یا تو وعدہ نہیں بھجوایا تھا صرف وصولی بھجوائی ہے یا وعدے سے بڑھ کر وصولی کی۔۱۹۸۸ء میں وصولی ۴۲۰،۴۳۲ تھی اور ۱۹۸۹ء میں ۶۱،۵۵۲ یعنی ۳۸۸ ،۶۰ کے وعدے سے بھی زیادہ ۶۱،۵۵۲ وصولی ہوئی ہے اور یہاں اضافے کی شرح تھوڑی سی بڑھ گئی ہے وعدوں کے مقابل پر یعنی وصولی کے اعتبار سے گزشتہ سال پر ۴۵ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ممالک کی جو باہمی دوڑ ہے اس میں اول پوزیشن پہ جرمنی ہے اور گزشتہ چند سال سے جرمنی ساری دنیا کے لئے ایک چیلنج بن کر ابھر رہا ہے اور وہ بعض بڑے بڑے امیر ممالک جو پہلے جرمنی کو بہت پیچھے دیکھا کرتے تھے۔ان کو میں نے متنبہ کرنا شروع کیا تھا کہ ” آیا ای آیا اور اب یہ بڑھنے لگا ہے لیکن باوجود اس Warning کے اس تنبیہ کے وہ آگے بڑھنے والے کو پیچھے نہیں ہٹا سکے اور وقف جدید میں بھی خدا کے فضل سے جرمنی اول آیا ہے۔برطانیہ دوئم ، کینیڈا بھی ایک ابھرنے والی جماعت ہے جس نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔وہ سوم نمبر پر آیا ہے اور امریکہ چہارم ہے۔انڈونیشیا پنجم۔ناروے ششم سوئیٹزرلینڈ ہفتم ، ڈنمارک ہشتم اور ماریشس نہم اور مسقط دہم۔ماریشس کے متعلق میرا یہ خیال ہے کہ رپوٹ درست نہیں کیونکہ اس رپوٹ کے جو اعدادوشمار ہیں وہ ماریشس کے لحاظ سے ناقابل یقین ہیں۔میں جانتا ہوں کہ ماریشس کی جماعت میں امسال ہر پہلو سے ترقی ہوئی ہے اور اخلاص کے لحاظ سے، جذبہ قربانی کے لحاظ سے تبلیغ کے لحاظ سے اور چندوں کے لحاظ سے ، ملک میں وقار اور عظمت اور عزت کے لحاظ سے بہت غیر معمولی طور پر ماریشس کی جماعت آگے بڑھی ہے لیکن یہ اعداد و شمار مجھے یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وقف جدید میں پچھلے سال سے بہت پیچھے رہ گئی ہے گزشتہ سال ان کا وعدہ ۱۸۷۳ء پاؤنڈ سٹرلنگ تھا اور اس کے مقابل پر ادائیگی انہوں نے ۲۰۱۲۲ کی تھی اور امسال یہ اعدادوشمار بتارہے ہیں کہ وعدہ ۲٬۵۵۸ اور وصولی صرف ۱،۱۹۴۔تو یقیناً کوئی غلطی ہوگئی ہے یا سیکرٹری صاحب وہاں ایسے آگئے ہیں جو سارا سال سوئے رہے ہیں۔بہر حال میں امید رکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ماریشس یہ داغ اپنے اوپر نہیں لگنے دے گا اور وعدے سے بڑھ کر وصولی کر کے اپنی پوزیشن کو بحال کرے گا۔مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سے بھی بعض ممالک کو خدا کے فضل سے بڑی نمایاں طور پر قربانی کی توفیق ملی ہے۔اللہ تعالیٰ ان