خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد ۸ 845 خطبه جمعه ۲۹/دسمبر ۱۹۸۹ء انشاء اللہ قائم رکھے گا اور امیر صاحب سیالکوٹ کو خصوصیت کے ساتھ یہ توجہ کرنی چاہئے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے اس سال کو گزشتہ سال سے ہارنے نہ دیں۔ابھی وصولی کے کچھ دن باقی ہیں کیونکہ وقف جدید کی وصولی دسمبر میں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ عموماً جنوری کا پورا مہینہ اور فروری کا کچھ حصہ سال گزشتہ کی وصولی میں شمار ہوتا رہتا ہے۔اس لئے ویسے بھی مومن کو چاہئے کہ اس کا ہر قدم آگے بڑھے لیکن یہ سال چونکہ غیر معمولی خصوصیت کا سال ہے اس سال دنیا کی کسی جماعت کو بھی اپنے اخلاص پر یہ داغ نہیں لگنے دینا چاہئے کہ جب ساری دنیا میں ۱۹۸۹ء کا سال نمایاں شان سے آگے بڑھ رہا تھا تو ہمارے پاس سے جب یہ سال گزرا تو اس کے قدم ڈھیلے پڑ گئے اور پچھلے سال سے بھی پیچھے رہ گیا۔پس اس مسابقت کی روح کے ساتھ جو سالوں کے درمیان بھی چلنی چاہئے آپ اپنے اس سال کو پیچھے نہ ہٹنے دیں۔دفتر اطفال بھی وقف جدید کا ایک دفتر ہے۔یعنی بڑوں کے چندے کے علاوہ اطفال کے چندے بھی الگ وصول کئے جاتے ہیں۔اس پہلو سے بھی خدا کے فضل کے ساتھ کراچی اول ہے لیکن لاہور ربوہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور اگر چہ بہت معمولی فرق ہے جس کو گھڑ دوڑ کی اصطلاح میں کہتے ہیں۔گردن کا فرق رہ گیا یا سر کا فرق رہ گیا تو اتنا تھوڑا سا فرق ہے۔آگے جا کر ممکن ہے ، بدل جائے کیونکہ ابھی آخری لائن نہیں آئی جہاں سے گزرنا ہے تو بہر حال لا ہور ، ربوہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔اور راولپنڈی چوتھے درجے پر اور سیالکوٹ اس پہلو سے فیصل آباد کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور آگے نکل گیا۔الحمد للہ۔اور اپنے پچھلے سال سے بھی نمایاں ترقی کی ہے۔اس لئے مجھے خیال ہے کہ غالباً اعداد و شمار کی غلطی ہوگی ورنہ وقف جدید کے لحاظ سے اگر اطفال میں سیالکوٹ کا قدم آگے ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ بالغان میں بھی وہ قدم آگے نہ بڑھے۔ہاں تعداد کے لحاظ سے پاکستان کی رپورٹیں نہیں موصول ہوئیں۔بعض جگہ تعداد کا ذکر ہے بعض جگہ نہیں ہے اس لئے میں نے پاکستان میں شامل ہونے والوں کے اعداد و شمار آپ کے سامنے پیش نہیں کئے۔وقف جدید کو چاہئے کہ وہ بعد میں گزشتہ سال کے موازنے کے ساتھ تیار کر کے مجھے بھجوائے۔جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے، اس میں امسال خدا کے فضل سے شمولیت کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔جیسا کہ آپ کو علم ہے یہ تحریک بیرونی دنیا کے لحاظ سے ابھی نئی