خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد ۸ 80 60 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء ساتھ تبلیغ چلے گی وہ کسی اور ذریعے سے مجھے ممکن نظر نہیں آتی۔میں امید رکھتا ہوں کہ اس پہلو کو پیش نظر رکھ کر جماعت افغانستان کے لئے ، اپنے افغان بھائیوں کے لئے خاص طور پر دعا کرے گی۔آخر پر عرب دنیا کے لئے میں دعا کی درخواست کرتا ہوں۔عربوں سے جہاں تک ہمارا واسطہ پڑا ہے ہم نے محسوس کیا ہے کہ بہت شریف النفس لوگ ہیں۔مظلوم ہونے کی وجہ سے ان کے رد عمل بہت سخت ہوتے ہیں اس لئے کوئی Terrorist بن گئے ، کوئی اور کئی قسم کی تخریب کا رتنظیموں میں بھی شامل ہوئے۔بے چینی کا اظہار جس طرح کسی سے بن پڑا اُس نے کیا لیکن بنیادی طور پر یہ قوم حضرت محمدمصطفی ﷺ کی وارث ہے۔وہی خون دوڑ رہا ہے اس قوم میں جو محمد رسول اکرم علی کی مقدس رگوں میں دوڑا کرتا تھا۔اس نسبت سے بھی یہ ہمیں پیارے ہیں اور ہمیشہ پیارے رہیں گے اور اس پہلو سے بھی کہ ان میں اُس شرافت کے آثار باقی ہیں، مٹے نہیں ہیں۔جہاں جہاں بھی واسطہ ہوا ہے عربوں سے یورپ میں، باہر امریکہ میں یا دوسری جگہوں پر وہاں ہم نے دیکھا ہے کہ مخالفت کے باوجودطبیعت میں گہری سعادت پائی جاتی ہے اور جب حق دیکھ لیتے ہیں تو فوراً قبول کرتے ہیں اور بڑی تیزی سے اس میں ترقی کرتے ہیں۔اس لئے اگلی صدی سے پہلے پہلے ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے کہ عربوں میں سے کثرت کے ساتھ احمدی ہوں اور احمدیت کا پیغام ان لوگوں تک اس طرح پہنچ جائے کہ جس کے نتیجے میں اگر آج نہیں تو کل آخر یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت میں شامل ہو جائیں۔عرب قوم اگر احمدی ہو جائے تو ساری دنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا ہو جائے گا۔حیرت انگیز اس وقت خدا تعالیٰ نے ان کو اندرونی توفیقات عطا فرمائی ہوئی ہیں۔مادی وسائل کے لحاظ سے بھی اور روحانی وسائل کے لحاظ سے بھی غیر معمولی قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں، خلوص رکھتے ہیں اور جو گزرے ہوئے ہیں یہ سطحی طور پر گزرے ہوئے ہیں۔بنیادی طور پر اسلام سے محبت ابھی تک موجود ہے۔اس لئے عربوں کو بھی خاص طور پر دعا میں یاد رکھیں اور جہاں تک عرب علماء کا تعلق ہے شاذ ہی ایسے ہوں گے جن کے متعلق آپ یہ کہ سکیں کہ شریر ہیں۔بھاری اکثریت عرب علماء کی شریف ہے اور اس قسم کے دو غلے علماء نہیں جس قسم کے علماء سے برصغیر میں لوگوں کو واسطے پڑتے ہیں۔بڑی قربانی کرنے والے ہیں، ان میں لیڈرشپ کی صلاحیتیں موجود ہیں۔خالص ہیں اپنی نیتوں میں، اپنے اعمال میں جہاں تک ممکن ہیں یہ تقویٰ اختیار کرنے والے