خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 843
خطبات طاہر جلد ۸ 843 خطبه جمعه ۲۹/دسمبر ۱۹۸۹ء برکتوں سے محروم ہیں، ان کو اس بہانے ایک موقعہ میسر آجائے اور پھر خدا کے فضل کے ساتھ وہ ہر دوسری تحریک میں بھی خود بخود آگے بڑھنے لگیں۔اس پہلو سے بہت سا کام ابھی ہونا باقی ہے۔اگر چہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس سال خدا کے فضل کے ساتھ ہر پہلو میں جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔وقف جدید کے چندے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وقف جدید کی قربانی کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن گنجائش ابھی بہت موجود ہے۔افریقہ کے ممالک میں خصوصیت کے ساتھ بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔افریقہ کے ممالک میں جو امراء یا مربیان کام کرتے ہیں وہ بعض دفعہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی ! غریب ہے ملک۔اس میں قربانی کی توفیق اتنی نہیں مگر جہاں تک میرا جائزہ ہے۔میں ان ملکوں میں پھر کے آیا ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ غربت کے باوجود افریقہ میں مالی قربانی کی روح بڑی نمایاں ہے اور قربانی کے لحاظ سے افریقین قوم دنیا کی کسی قوم سے پیچھے نہیں بلکہ بعض پہلو سے بہت آگے ہے یعنی بعض دفعہ میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نہایت غریب لوگ جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی تھی ، جن کو چوبیس گھنٹے میں صرف ایک کھانا ملتا تھا تو وہ غنیمت سمجھتے تھے ، وہ بھی جماعت کے لئے مالی قربانی کا جذبہ رکھتے تھے اور ہمیشہ چندہ میں شوق سے شامل ہوتے تھے۔غریب سے غریب نہایت ہی غریب گاؤں میں میں نے دیکھا کہ بڑے ذوق وشوق سے مسجدیں بنارہے ہیں بغیر کسی سے کچھ مانگے سالہا سال مسلسل محنت کرتے چلے جارہے ہیں جو کسی کو توفیق ملتی ہے وہ مسجد کے لئے پیش کر دیتا ہے۔پس جماعت افریقہ پر جماعت کے منتظمین کو بدظنی کا کوئی حق نہیں ہے اور یہ بدظنی ان کو نقصان پہنچائے گی اور یہ بدظنی آئندہ نسلوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔افریقہ میں جس تیزی کے ساتھ احمدیت پھیل رہی ہے اسی تیزی کے ساتھ افریقہ کی نئی آنے والی نسلوں کو یا نئی پیدا ہونے والی نسلوں کو بھی اور نئے آنے والے افراد کو بھی فوری طور پر بلا تاخیر مالی قربانی کا چسکا ڈال دینا چاہئے۔مالی قربانی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے واقعی ایک چسکا ہے۔دنیا والے جس طرح آج کل Drug Addiction میں مبتلاء ہورہے ہیں۔میں نے دیکھا ہے جماعت احمدیہ میں بہت سارے احمدی ایسے ہیں جن کو چندے کی ایڈیکشن ہوگئی ہے اور یہ ایڈیکشن ، پھر اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ان کو سنبھالنا پڑتا ہے روکنا پڑتا ہے کہ بھٹی انٹھہرو ذرا بس کرو تمہارے اپنے عزیز