خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 842

خطبات طاہر جلد ۸ 842 خطبه جمعه ۲۹/دسمبر ۱۹۸۹ء ہے کہ ہر قدم اگلے قدم کے لئے ایک طاقت کا ذریعہ بن جاتا ہے،حوصلہ پیدا کرتا ہے اور جوں جوں آپ آگے قدم بڑھاتے جاتے ہیں اور مڑ کر دیکھتے ہیں کن نچلی سطحوں سے آپ کوشش کر کے اوپر ابھرے ہیں تو نیچے دیکھنا بھی آپ کے لئے تقویت کا موجب بنتا ہے اور اوپر دیکھنا بھی حوصلوں کو انگیخت کرتا ہے بجائے بجھانے کے۔سفر شرط ہے۔پس چندوں میں بھی میرا یہ وسیع تجربہ ہے اپنے متعلق بھی اور دوسروں کے متلعق بھی کہ جب بھی آپ خدا کی راہ میں کچھ پیش کر نیکی تو فیق پاتے ہیں تو وہ توفیق آپ کی توفیق بڑھاتی ہے اور اس کے علاوہ ایک اور خدا کا فضل ہے جو ہمیشہ چندے دینے والوں پر نازل ہوتا ہے کہ ان کی مالی حیثیت بھی پہلے سے بہتر ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ان کے قرضوں کے بوجھ کم ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ان کو جو روز مرہ کی چٹیاں پڑتی رہتی ہیں اس میں کمی آجاتی ہے۔کئی قسم کی مصیبتوں سے وہ بچائے جاتے ہیں پس میرے علم میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چندہ دینے والا چندہ دینے کی وجہ سے نقصان میں رہا ہو یعنی جزا کا وہ مفہوم جو خدا کی رضا سے تعلق رکھتا ہے یا آخرت سے تعلق رکھتا ہو، اس کے علاوہ بات کر رہا ہوں۔وہ تو اپنی جگہ ہے۔انسان جب خدا کی راہ میں کچھ پیش کرتا ہے تو رضا کی خاطر کرتا ہے اور وہی چندہ ہے جو قبول ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں دنیا بھی سنورتی ہے۔پس جہاں تک نیتوں کا تعلق ہے، نیت یہ ہونی چاہئے کہ محض اللہ خدا کی رضا کی خاطر ہم یہ دے رہے ہیں اور جب آپ اس نیت کے ساتھ دیتے ہیں تو اللہ کی رضا صرف آخرت کی جزا نہیں دیتی بلکہ دنیا میں بھی آپ کو جزا دیتی ہے اور چندہ دینے والا جانتا ہے یقینی طور پر اس کو علم ہو جاتا ہے کہ بہت سی ایسی برکتیں اس کو نصیب ہوئی ہیں جو پہلے حاصل نہیں تھیں۔اس لئے دنیا میں لکھوکھا احمدی ذاتی طور پر اس بات کے گواہ ہیں، بچے بھی گواہ ہیں، مرد بھی عورتیں بھی۔سب دنیا میں جماعت کے ساتھ خدا تعالیٰ یہی سلوک کرتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ خدا کی راہ میں کچھ پیش کرنے والے کی قربانی کی توفیق بھی بڑھتی ہے اور مالی وسعت بھی اس کو عطا ہوتی ہے۔پس وقف جدید میں جب ہم افراد کی تعداد میں اضافے پر زور دیتے ہیں تو میری نیت اس میں ہمیشہ یہی ہوتی ہے تاکہ وہ احمدی بھی جواب تک مالی قربانی کی لذت سے محروم ہیں اور اس کی